آج پنجاب کے لوگ بھی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کھل کر بات کر رہے ہیں اور اس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب میں فوج، آئی ایس آئی اور سرکاری ایجنسیوں کی غلط پالیسیوں اور اقدامات پر تنقید کرتا تھا تو مجھے پنجاب کے لوگ غداراور ملک دشمن کہتے تھے لیکن آج پنجاب کے لوگ بھی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف کھل کر بات کررہے ہیں اور اس کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں جو باتیں میں چالیس سال سے کہتا رہا آج وہ پورا پاکستان کہہ رہاہے۔ انہوں نے یہ بات ایم کیوایم جرمنی کے زیراہتمام فرینکفرٹ میں منعقدہ اجتماع سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں کارکنوں اور ہمدردوں نے شرکت کی جن میں نوجوانوں اور بزرگوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی شرکت کی ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں کئی بر سوں سے بتاتا رہا ہوں کہ آئی ایس آئی اور دیگر سرکاری ایجنسیاں پاکستان کی سیاست میں ملوث ہیں، وہ ملک کے سیاسی معاملات پر اثر انداز ہورہی ہیں،یہ ایجنسیاں سیاسی جماعتوں کو بنانے، بگاڑنے، لانے ہٹانے میں ملوث ہیں ، عدالتیں بھی ان سرکاری ایجنسیوں کے دباؤ میں ہیں، میری ان باتوں پر مجھے غدار اور ملک دشمن کہا جاتا رہا لیکن کل اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار سے اپنے خطاب میں کھل کر کہہ دیا کہ آئی ایس آئی والے عدالت پر دباؤ ڈال رہے ہیں، ساری گڑبڑ آئی ایس آئی کررہی ہے، عدالت کو ڈکٹیشن دے رہی ہے ۔ سول گورنمنٹ کے تمام لوگ بظاہرحکومت کے ماتحت ہوتے ہیں لیکن اصل میں وہ ہدایات فوج سے لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کے ایک حاظر سروس جج کی جانب سے آئی ایس آئی کا باقاعدہ نام لیکر اس طرح کے حقائق بیان کرنا،نہایت انتہائی اہم ہے ، کل تک جب میں یہ باتیں کرتا تھا تو میری بات پرتوجہ دینے کے بجائے ہر پنجابی مجھے گالی دیتا تھا کہ یہ فوج کے خلاف ہے، یہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف غلط بات کررہاہے، یہ انڈین ایجنٹ ہے، جوفوج
اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کرے گا وہ ملک دشمن ہوگا لیکن مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کو عمرقید کی سزا دیے جانے کے بعد پنڈی اور پنجاب کے دیگر شہروں میں کل بھی لوگوں نے سڑکوں پر ’’آئی ایس آئی مردہ باد ‘‘ ۔۔۔ ’’ خلائی مخلوق مردہ باد ‘‘ ۔۔۔ ’’ فوجی غنڈہ گردی نامنظور ‘‘ ۔۔۔ ’’ یہ جودہشت گردی ہے ، اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘ ۔ کے نعرے لگائے اور آج بھی یہ نعرے لگے ۔ ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں یہ نعرے مہاجروں، پشتونوں یا بلوچوں نے نہیں بلکہ پنجابیوں نے لگائے ہیں۔ لوگ آج سمجھ رہے ہیں کہ کل تک جو میں کہتا تھا وہ سچ کہتا تھا۔ جو میں چالیس سال سے کہتا رہا آج وہ پورا پاکستان کہہ رہا ہے۔ انہوں نے حاظرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے الطاف حسین کی شکل میں سچ بولنے والا ایک قائد عطا فرمایا۔ میری پالیسیوں اور اقدامات پر سوال کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غورکریں کہ آج پنجاب کے لوگ فوج، آئی ایس آئی اور فوجی جنتا کے خلاف جو نعرے لگارہے ہیں ، یہی تو میں نے بھی کہا تھا کہ جہاں فوج ،رینجرز اور سرکاری ایجنسیاں بے گناہ لوگوں کا ماورائے عدالت قتل کریں، انہیں پکڑ کرغائب کردیں، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکیں، جو 72سالہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف تک کو نہ بخشیں اور انہیں بھی حراست میں لیکرتشدد کرکے سفاکی سے شہید کردیں،ایسا ظلم کرنے والوں کو زندہ باد کس طرح کہا جاسکتا ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہمارے ہاں انصاف کا عالم یہ ہے کہ بدنام زمانہ پولیس افسر راؤ انوار نے 13جنوری کو جب پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو شہید کیا،اسی روز راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود اور اس کے ساتھیوں کو بھی شہید کیا۔ اسی راؤ انوار نے ایم کیوایم کے متعدد کارکنوں سمیت 400سے زائد بے گناہ لوگوں کو جعلی پولیس مقابلوں کے نام پر قتل کیا۔ اس کا بیان ریکارڑ پر ہے کہ اس نے بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں کراچی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے کارکن فاروق پٹنی اور اس کے ساتھیوں کو ایئرپورٹ پر ماورائے عدالت قتل کیا،تو اس کے انعام کے طور پر بینظیرحکومت کی جانب سے اس کو جو بھاری رقم ملی تھی اس سے اس نے پہلا مکان خریدا تھا۔ یہ صرف ایک شخص کا قاتل نہیں بلکہ 400 سے زائد معصوموں کا قاتل ہے ۔ ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکن آج تک لاپتہ ہیں، ہزاروں کارکن مختلف جیلوں میں قید ہیں، عدالتیں ان کی ضمانتیں نہیں کرتیں لیکن راؤ انوارجو قاتلوں کا سردار ہے ،اس کی عدالت نے صرف ضمانت ہی منظورنہیں بلکہ رہا کردیا اور آج وہ رہا ہو کر گھوم رہا ہے،اس لئے کہ راؤ انوار کے پیچھے بھی وردی ہے، فوج اور آئی ایس آئی ہے ۔ عدالتیں فوج کے بوٹ کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم قوم کی بقاء اور اس کے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں،یہ جنگ آسان نہیں، پاکستان میں مہاجروں کا اللہ اور اپنے مہاجروں کے سوا اور کوئی نہیں ہے، ہم اپنی ماں بہن بیٹیوں کی باعزت اور آزاد زندگی چاہتے ہیں، ہمیں علیحدہ صوبہ دے کر مکمل اختیار دینا ہوگا اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو ہم نے پاکستان بنایا، جب وہ ہمیں قبول نہیں کررہا تو ہم بھی اپنے لئے ایک اور آزاد وطن بنانے کی جدوجہد کا آغاز کردیں گے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا لیکن بانیان پاکستان کی اولادوں کو ہی جائز حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے ۔انہوں نے مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ،آپ سندھ سیکریٹریٹ چلے جائیے ، وہاں آپ کو ایک مہاجرنہیں ملے گا، پورے سندھ کی بیوروکریسی، پولیس اور انتظامیہ کو دیکھ لیجئے ،آپ کو اس میں ایک مہاجر بھی نہیں ملے گا، کوٹہ سسٹم کے نام پر سرکاری ملازمتوں کی طرح مہاجروں پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بھی بندہیں، مردم شماری میں کراچی کی آبادی تین کروڑسے ایک کروڑ 40 لاکھ کردی گئی، آدھے مہاجرمائنس کردیے گئے ،اتنی دھاندلی دنیامیں کہیں ہوہی نہیں سکتی،حلقہ بندیاں ایسی کی گئی ہیں کہ تمام شہری علاقوں کو گوٹھوں اور دیہی علاقوں سے ملا دیا گیا ہے تاکہ مہاجر نمائندے کامیاب نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ سب کچھ مہاجروں کے ساتھ کھلی ناانصافی نہیں ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ اس کھلی ناانصافی پر کمالو ٹولہ کہاں ہے؟ فاروق ستار کہاں ہے؟ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر مارٹن کوارٹرز، کلیٹن کوارٹرز ، جہانگیر روڈ اور ایف سی ایریا کے مکینوں کو انکے گھروں سے غیرقانونی طور پر بیدخل کیا جارہا ہے ، جبکہ میں نے کئی سال قبل ہی برسوں کی کوششوں کے بعد ان علاقوں کے لوگوں کو مالکانہ حقوق دلا دیے تھے،جسے ثاقب نثار نے کینسل کر کے ان کی بیدخلی کے احکامات دیدیے ہیں۔ اس پر فاروق ستار ٹولے اور کمالو ٹولے نے کونسا احتجاج کیا؟ مردم شماری اور حلقہ بندیوں میں مہاجروں کے ساتھ جو کھلی ناانصافی اور زیادتی کی گئی اس پر کمالو ٹولے اور فاروق ستار ٹولے نے کونسی آواز اٹھائی؟آج کراچی میں پانی، بجلی ، گیس نہیں ہے، شہریوں کے لئے آنے والاپانی فوج کے کنٹونمٹ علاقوں میں جارہاہے ،لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں لیکن یہ کمالو اور بہادرآباد والے منرل واٹر پیتے ہیں، انہوں نے آئی ایس آئی کے ہاتھوں قوم سے جو غداری کی ہے اس کی قیمت انہیں مل رہی ہے ، یہ لوگ عیش کررہے ہیں، انہوں نے پوری قوم کی یونٹی کا بیڑا غرق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمالو ٹولے اور بہادرآباد ٹولے کے لوگوں سے پوچھو کہ یہ کل تک چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے، آج بڑے بڑے بنگلوں میں کیسے رہ رہے ہیں، کل تک ان کے پیروں میں پہننے کے لئے چپل نہیں ہوتی تھی ، آج یہ کروڑوں روپے کی مہنگی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، آخر ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ جبکہ میں نے آج کے دن تک نئی گاڑی نہیں لی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں رابطہ کمیٹی کے ارکان شہیدوں کے لواحقین،لاپتہ اور اسیرساتھیوں کی خبرگیری کرنے کے بجائے بدعنوانیوں، مال واسباب بنانے اور ذاتی مفادات میں لگ گئے تو میں نے ان کی سرزنش کی کہ آپ کو قوم کا زرہ برابر بھی احساس نہیں لیکن ان ضمیر فروشوں نے اپنی غلطیاں تسلیم کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے تحریک کے دشمنوں سے ہاتھ ملالیا، انہوں نے تحریک اور قوم سے غداری کی،تحریک کے نظریہ اور شہیدوں کے لہو کا سودا کرلیا اور آج قوم کو غلام بنانے کے عمل میں قوم کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ بائیکاٹ نہ کریں، بائیکاٹ کرنے سے دشمن جیت جائے گا،انہوں نے کہا کہ دشمن غدار سے زیادہ بہتر ہے، دشمن سے بات ہوسکتی ہے لیکن غدار سے بات نہیں ہوسکتی۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ گزشتہ دوسال سے نائن زیرو بند ہے، دو سو آفس بلڈوز کردیے گئے، آفسوں پر تالا،جو نوجوان جئے الطاف حسین کا نعرہ لگادے تو پورے علاقے کا محاصرہ کر کے گرفتاریاں کی جاتی ہیں، کل بھی گلشن اقبال کے علاقے میں گرفتاریاں کی گئیں، ان حالات میں الیکشن میں کس طرح حصہ لیا جاسکتا ہے؟ اگر ان حالات میں ہم الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ بھی کرتے تو کہاں آفس قائم کرتے؟،کارنرمیٹنگ کیسے کرتے؟ جب الطاف حسین کا نام لینے ، نعرہ لگانے کی اجازت نہیں ہے تو انتخابی مہم کیسے چلاتے؟ انہوں نے کہا کہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں اور پھر کہا جائے کہ آپ دوڑ کیوں نہیں رہے ہیں،کیا یہ اصولی بات ہے؟ میں دوڑسکتا ہوں لیکن پہلے میرے ہاتھ پاؤں تو کھولو۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم نے 1987ء سے ہر الیکشن میں حصہ لیا،اسمبلیوں میں گئے، پیپلزپارٹی،آئی جے آئی، مسلم لیگ ن،بینظیر، نوازشریف، زرداری سے معاہدے کئے، مسلم لیگ ق سے معاہدے کئے لیکن کسی نے معاہدے پرعمل نہیں کیا، سب نے جھوٹے وعدے کئے ۔ ان الیکشن سے ہمارے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی بقاء اور اس کے غصب شدہ حقوق کے لئے ہمیں عملی جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آپ بلوچوں اور پشتونوں کو دیکھئے ، اپنی قوم کی بقاء کے لئے دیگرقوموں کے لوگ مزاحمت کررہے ہیں، میدان عمل میں آکر جدوجہد کررہے ہیں ، ہمارے ہزاروں ساتھی شہید ہوگئے مگرہم انہیں بھول گئے اور اپنی زندگی میں مگن ہوگئے ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم ذاتی مفاد کے بجائے قوم کے اجتماعی مفاد کے لئے کریں اور اپنی ذاتی انا کو چھوڑ کر قوم کی اجتماعی انا کو فوقیت دیں اور قوم کی بقاء اور اس کے حقوق کے لئے آگے آکرجدوجہد میں حصہ لیں۔ اپنے اپنے شہروں میں ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بات کریں،انہیں اپنی قوم پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کریں اور ریاستی مظالم کے خلاف اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کریں۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع کے شرکاء سے کہا کہ آپ پاکستان میں رہنے والے اپنے اپنے رشتہ داروں کو کہیں کہ وہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں،اس دن گھروں میں بیٹھیں، اس دن چھٹی منائیں، اگر اس روز رینجرز،پولیس زبردستی کرے اور جان کے خطرے کے پیش نظرووٹ ڈالنے کے لئے جانا بھی پڑے توبیلٹ پیپرخراب کردیں ۔اس موقع پر انہوں نے فوجی الیکشن کا بائیکاٹ ، آئی ایس آئی کے الیکشن کا بائیکاٹ، غداروں پر لعنت کے نعرے بھی لگائے ۔ اس موقع پر ایم کیوایم جرمنی کے آرگنائزر افضال حسین نے بھی خطاب کیا۔