اسٹیبلشمنٹ اوروڈیروں جاگیرداروں کا گٹھ جوڑ ہے جوغریب و متوسط طبقہ کی قیاد ت ملک میں آگے آنے نہیں دیتا۔مصطفےٰ عزیزآبادی

Birmingham Unit Iftar 2017

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اور وڈیروں جاگیرداروں کا گٹھ جوڑ ہے جوغریب ومتوسط طبقہ کی قیاد ت ملک میں آگے آنے نہیں دیتا، قائد تحریک الطاف حسین کا قصور یہی ہے کہ انہوں نے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو چیلنج کیا، اسی لئے اسٹیبلشمنٹ ان کی دشمن بن گئی اوران پر ان کے وطن کی زمین تنگ کردی گئی۔ انہوں نے یہ بات ایم کیوایم یوکے برمنگھم یونٹ کے زیراہتمام دعوت افطارسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ افطار پارٹی میں ایم کیوایم کے کارکنوں اور پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں نے شرکت کی ۔ تقریب سے ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزر ہاشم اعظم، جوائنٹ آرگنائزر سہیل زیدی،برمنگھم کے یونٹ انچارج محمد اشرف اور دیگر ارکان نے بھی خطاب کیا۔ مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہا کہ پاکستان میں انقلاب اورتبدیلی کا محض نعرہ دیا جاتا ہے یہ نعرے دینے والے انقلاب کے معنوں سے بھی واقف نہیں ہیں، تبدیلی کی باتیں کرنے والے بھی دراصل اسٹیبلشمنٹ کی پیداوارہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین کو پاکستان کی سرکاری ایجنسیوں نے خریدنے کی کئی بار کوشش کی لیکن قائد تحریک الطاف حسین نے اپنا ظرف و ضمیر فروخت کرنے سے انکار کردیا جس کا اعتراف آئی ایس آئی کے سابق  افسر بریگیڈیئرامتیاز بھی قوم کے سامنے کرچکے ہیں۔ اسی جرم کی پاداش میں بانی و قائد جناب الطاف حسین پر پاکستان کی زمین تنگ کردی گئی اور19جون 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف بدترین فوجی آپریشن شروع کیا گیا جو آج تک جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج صرف انہی کو سیاست کرنے کی اجازت ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرجھکانے کیلئے اوراس کی ہاں میں ہاں ملانے کیلئے تیارہوں ، جو اسٹیبلشمنٹ کے غلط اقدامات کوغلط اور ظلم کو ظلم کہتے ہوں ان کوغدار، ملک دشمن قرار دے کر ریاستی طاقت سے کچلنے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے اور بعض متعصب تجزیہ نگار چند ٹکوں کے عوض اپنے آپ کو بیچ کراسٹیبلشمنٹ کے ظلم کی حمایت کررہے ہیں۔ ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزر ہاشم اعظم نے کہا کہ طاقت کے ذریعے ایم کیوایم کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہمارا بھی یہ عزم ہے کہ ہم تمام ترمظالم ، سازشوں اور پروپیگنڈوں کے باوجود قائد تحریک الطاف حسین کی قیادت میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔