اسٹیبلشمنٹ تجاوزات کے خاتمہ کی آڑ میں مہاجروں کو اقلیت میں بدلنا چاہتی ہے۔ الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی میں تجاوزات کے خاتمہ کے نام پر مہاجروں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے اور انہیں تباہ و برباد کیا جارہا ہے، یہ ساری کارروائی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کاحصہ ہے ، اسٹیبلشمنٹ تجاوزات کے خاتمہ کی آڑ میں کراچی میں مہاجروں کو اقلیت میں بدلنا چاہتی ہے اور مہاجروں کومکمل طور پر تباہ و برباد کرکے غلام بنانا چاہتی ہے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے اہم خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں حکومت اور بلدیہ کی جانب سے کراچی میں تجاوزات کے نام پر دکانوں، مارکیٹوں اور گھروں کوتوڑے جانے کے لئے جاری مہم کی شدید مذمت کی کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز تجاوزات پورے ملک میں ہیں لیکن فوج کی ایما پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے صرف کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خاتمہ کا حکم دیا۔ تجاوزات اگر ٹھیلوں کی شکل میں ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہوں تو انہیں ہٹایا جاسکتا ہے
لیکن اگر تجاوزات 40، 40، 50، 50سالوں سے قائم ہوں تو وہ انسانی مسئلہ بن جاتا ہے اور اس انسانی مسئلے کو بندوق کے ذور پر نہیں بلکہ انسانی بنیادوں پر حل کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرکہیں سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ ہے تووہ بلدیہ عظمیٰ ،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، حکومت سندھ ،پولیس اور رینجرزکی مدد کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا ۔پھر اسکی سزاغریب عوام کو کیوں دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جودکانیں غیر قانونی ہوں ان کے خلاف تو کارروائی کا جواز بھی بنتا ہے لیکن جو دکانیں40، 50 برسوں سے قائم ہیں اور جو دکاندار بلدیہ عظمیٰ کو دکانوں کا کرایہ دے رہے ہیں ان دکانوں کو توڑنا سراسر ناجائز اور ظلم ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کے بعد کئی مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ گاندھی گارڈن کی دکانیں بھی توڑ دی گئی ہیں جو کہ 50، 60 سالوں سے قائم تھیں اور جو کے ایم سی کے کرایہ دار تھے، اسی طرح کراچی کے تاریخی اردو بازار کو بھی مسمار کیا جارہا ہے، اب تک ہزاروں دکانوں اور پوری پوری مارکیٹوں کو ختم کیا جاچکا ہے ، جن سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کوان کے روزگار سے محروم کردیا گیا ہے، یہ کھلا معاشی قتل ہے۔ اسی طرح کراچی کے کئی علاقوں میں ہزاروں گھروں کو مسمار کیا جاچکا ہے اور ہزاروں خاندانوں کے سروں سے انکی چھت چھین لی گئی ہے ،تجاوزات کے خاتمہ کے نام پر اس ظالمانہ کارروائی کا حکم دے کر چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے قلم کے ذریعے چنگیز خانی ظلم کیا ہے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ تجاوزات کے نام پر ساری کارروائی صرف اور صرف مہاجرعلاقوں میں کی جارہی ہے اور ایک منصوبہ بندی کے تحت صرف مہاجروں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پشاور میں ریلوے کالونیوں کے مکینوں کو تو مالکانہ حقوق دیدیے گئے، پنجاب میں ریلوے کالونیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن کراچی میں ریلوے کالونیوں سے تجاوزا ت کے نام پر مکینوں کو بے دخل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری کارروائی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کا حصہ ہے ، اسٹیبلشمنٹ تجاوزات کے خاتمہ کی آڑ میں کراچی میں مہاجروں کو اقلیت میں بدلنا چاہتی ہے اور مہاجروں کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرکے غلام بنانا چاہتی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی کارروائی چین کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں کے سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت وہ پورے کراچی سے مہاجروں کودر بدر کرکے پورے شہر کو ایک فوجی علاقہ بنانا چاہتی ہے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ کشمیرمیں تو روزانہ ایک کومارا جاتا ہے لیکن کراچی میں روزانہ سینکڑوں مہاجروں کا سفاکانہ معاشی قتل کیا جارہا ہے، یہ ظلم حریت پسند پیدا کرتا ہے اور پھر لوگ اس مسلسل ظلم سے تنگ آکرفریڈم کے نعرے لگاتے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ جب تک ایم کیوایم کا مرکز کھلا ہوا تھا اور ایم کیوایم میری قیادت میں کراچی میں عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی تھی تو کسی کویہ ہمت نہیں تھی کہ وہ لوگوں کی دکانوں یا گھروں کومسمار کرے اور انکا معاشی قتل کرے لیکن تحریک کے جن لوگوں نے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں اپنا سودا کیا ہے وہ آج اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بن کرمہاجروں کا ہی معاشی قتل کر رہے ہیں ۔جناب الطا ف حسین نے کہا کہ میئرکراچی اور بہادرآباد ٹولے کو شرم نہیں آتی کہ جن مہاجروں نے انہیں ووٹ دے کر باربار ایوانوں میں پہنچایا یہ انہی کے گھروں اور دکانوں کو توڑرہے ہیں اورانہیں ان کے روزگارسے محروم کررہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے مہاجرعوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرآپ اس ظلم کے خلاف میدان عمل میں نہیں آئیں گے اوراس کے خلاف متحد ہوکر آواز نہیں اٹھائیں گے تو آپ کی دکانیں اور گھر توڑے جاتے رہیں گے لہٰذا میدان عمل میں آئیے اور گھروں دکانوں کو توڑنے والوں اور اس کا حکم دینے والوں کا سوشل بائیکاٹ کیجئے جناب الطاف حسین نےکہا کہ عمران خان سب سے بڑا منافق ہے اور یوٹرن اس کی پہچان ہے ۔ اس نے عوام کو50 لاکھ گھر بنانے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کی حکومت میں غریبوں کے ہزاروں گھرگرائے جاچکے ہیں، نوکریاں دینے کے بجائے دکانیں توڑ کرلوگوں سے انکا روز گار چھینا جارہا ہے۔ عمران خان نے کہا تھا وہ کہ وہ خودکشی کرلے گا لیکن کسی سے قرضہ نہیں لے گا،آج وہ ہر ملک سے بھیک مانگ کر ملک کی عزت لٹوارہا ہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی مارشل لا لگا توفوج کی براہ راست حکومت رہی مگر میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج پاکستان میں ایک دکھاوے کی منتخب حکومت اور پارلیمنٹ تو ہے لیکن جمہوریت نہیں بلکہ غیراعلانیہ طور پرسخت مارشل لا نافذ ہے ، حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور تمام ادارے اس وقت فوج کے مکمل کنٹرول میں ہیں اور ملک میں ڈیموکریسی کے نام پر اسٹریٹوکریسی ہے۔ تمام سیاسی ومذہبی رہنما اپنے اپنے مفادات کی خاطر فوج کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں، الطا ف حسین کے علاوہ عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے ، آصف زرداری اور نوازشریف کے خلاف بھی جب فوج کا گھیرا تنگ ہونے لگتاہے تووہ وقتی طور پرفوج پر تنقید کرتے ہیں لیکن جیسے ہی فوج کی جانب سے ان پر ہاتھ ہلکا کردیا جاتا ہے یا انہیں اقتدارکی لالچ دی جاتی ہے تووہ اپنے مفادات کے لئے فوج کے جرنیلوں کے بوٹوں کوہاتھ لگا لیتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے یہی کیا ہے اوراب اس صف میں اے این پی اورجے یوآئی بھی شامل ہوچکی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مجھے اس بات کی سزادی جارہی ہے کہ میں نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا تھا لیکن میں نے پاکستان تو نہیں توڑا تھا، جن جرنیلوں نے پاکستان توڑ دیا ان کو کیا سزا دی گئی؟ پاکستان کے آئین میں آئین توڑ نا سزا سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے لیکن جن جرنیلوں نے باربارآئین توڑااورملک میں مارشل لاء نافذ کئے ان میں سے کتنے جرنیلوں کوسزا دی گئی؟انہوں نے کہا کہ آج کراچی، سندھ کے شہری علاقے، اندرون سندھ، بلوچستان، پختونخوا اور گلگت بلتستان کے عوام فوج کے ہاتھوں غلام بنے ہوئے ہیں اور بندوق کے ذور پر انہیں دبایا جارہا ہے ۔جناب الطا ف حسین نے کہا کہ مہاجر، سندھی،بلوچ، پشتون اور گلگتی غدار اور صرف پنجابی محب وطن ہیں، اب یہ دوہرا معیار نہیں چلے گا، پاکستان کو قائم ودائم اور مضبوط رکھنا ہے تو سب نسلی و لسانی اکائیوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا ہوگا، سب کو ان کے حقوق دینے ہوں گے کیونکہ سب فوج کے اس ظلم سے آزادی چاہتے ہیں۔ انہوں نے بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں، مہاجروں سے کہا کہ وہ سب ملکر آزادی کے لئے جدوجہد کریں کیونکہ اگر ہم سب ملکر جدوجہد کریں گے تو کوئی ہمارے حقوق غصب نہیں کرسکے گا۔ جناب الطا ف حسین نے اس موقع پر شہید وفا ڈاکٹر پروفیسرحسن ظفر عارف شہید، شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق، سید علی رضاعابدی شہید،بلوچ حریت پسند رہنماؤں بالاچ مری شہید، استاد اسلم شہید،اکبر بگٹی شہید،جسقم کے چیئرمین بشیر قریشی شہید اور تمام حریت پسند شہیدوں کو کھڑے ہوکر سیلوٹ پیش کیا۔