الطا ف حسین پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں،کارکنوں اورحامیوں سے مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین نے لاہورمیں پولیس کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں علی وزیر، بلال مندوخیل، عصمت شاہ جہاں، مزمل اوردیگرکارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ ملک کے دیگر شہروں کے بعد لاہور میں ایک پرامن جلسہ کرناچاہتی ہے تاکہ پنجاب کے عوام کو بھی پشتونوں کے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور پشتون عوام پر ہونے والے دیگر مظالم کی داستان اور اپنی حالت زار سے آگاہ کرسکیں لیکن بجائے اس کے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کی بات سنی جاتی اور ان پر ہمدردی سے غورکیا جاتا ، لاہور میں پشتون رہنماؤں اورکارکنوں کی اندھا دھند گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں جو سراسرظلم اور ریاستی بربریت ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ یہ انصاف و قانون کا کونسا معیار ہے کہ مذہبی انتہا پسند گروپوں کو احتجاج کے نام پر اسلام آباد، لاہور اور پورے پنجاب میں گھیراؤ جلاؤ تک کرنے کی اجازت ہے،انہیں دھرنے کی آڑ میں پورے پنجاب کی شاہراہوں کو بند کرنے کی اجازت ہے لیکن اگر اپنے حقوق کے لئے پرامن انداز میں آواز اٹھانے والے پشتون رہنما لاہورمیں آکر پرامن جلسہ کرنا چاہیں تو انہیں نہ صرف اس کی اجازت نہیں بلکہ ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں اور انہیں ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔جناب الطا ف حسین نے کہا کہ یہ جبر وستم اپنے حقوق کیلئے پرامن جدوجہد کرنے والے پشتونوں کو دیوارسے لگانے کا سبب بنے گا لہٰذا یہ ظلم بند کیا جائے، پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں اورکارکنوں کوفی الفور رہا کیا جائے ،انہیں لاہورمیں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے، ان کے خلاف طاقت استعمال کرنے کے بجائے ان کی بات سنی جائے ۔ جناب الطا ف حسین نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں،کارکنوں اورحامیوں سے مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔