ایم کیوایم ، پاکستان کو ایسا ملک بنانا چاہتی ہے جہاں فوج اور عدلیہ، آئین، قانون اور پارلیمنٹ کے تابع ہو، الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ الطاف حسین ، پاکستان کو قائم و دائم رکھنا چاہتا ہے اورملک سے کرپٹ جرنیلوں اورجاگیرداروں کے تسلط کا خاتمہ چاہتا ہوں۔ پاکستان بھر کے  پروگریسو عوام چاہتے ہیں کہ پاکستان کی اپنے ہمسائے ممالک ایران ، افغانستان اور انڈیا سے دوستی ہو اور وہ یورپی یونین کی طرح مل کر رہیں۔ ہم ایسے پاکستان کو زندہ باد کہنا چاہتے ہیں جہاں عدلیہ آزاد ہو اور فوج کی کاسہ لیس نہ ہو، ہم ایسی فوج چاہتے ہیں جو عوام کی حاکم نہیں بلکہ خادم ہو۔ ایم کیوایم ، پاکستان کو ایسا ملک بنانا چاہتی ہے جہاں فوج اور عدلیہ آئین، قانون اور پارلیمنٹ کے تابع ہو۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت الطاف حسین کا باب بند نہیں کرسکتی اورالطاف حسین نے ملک بھر کے مظلوموں کو جو نظریہ دیا ہے اسے ریاستی طاقت سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام مظلوم قومیتوں کو مخاطب کرتے ہوئے دعوت دی کہ آؤ ہم ماضی کی غلطیوں پر ایک دوسرے کو معاف کریں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے اصل دشمن کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کریں ، اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں اور متحد ہو کر اپنے جائزحقوق کی جدوجہد کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لندن میں منعقدہ ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لندن میں موسم کی خرابی اور برف باری کے باوجود تقریب میں ایم کیوایم کے کارکنان اوران کے اہل خانہ سمیت مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے دانشوروں، تجزیہ نگاروں اورشعراء نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔حاضرین کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث پنڈال کھچا کھچ بھر گیا اور بہت سے لوگوں نے اطراف میں کھڑے ہو کر جناب الطاف حسین کا خطاب سنا۔ جناب الطاف حسین کا خطاب سوشل میڈیا کے ذریعہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھا گیا۔

اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے دنیا بھرمیں ایم کیوایم کے کارکنان و ہمدردوں کو ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ عظیم الشان اجتماع اسلام آباد، جی ایچ کیو اور آبپارہ میں آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں بھی دیکھا جارہا ہوگا۔ جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی والوں نے پاکستان میں الطاف حسین کی تحریر، تقریر اور تصویر پر پابندی عائد کرکے سمجھ لیا تھا کہ انہوں نے ایم کیوایم کو ختم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کو اس مقام پرجی ایچ کیویا آئی ایس آئی نے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے پہنچایا ہے، الطاف حسین کا باب اللہ تعالیٰ نے کھولا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت الطاف حسین کا باب بند نہیں کرسکتی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں لوگوں کو جیلوں میں قید کرنے اور قتل کرنے والے خود ختم ہوجائیں گے مگر جس انقلابی کو اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے اس کا نظریہ زندہ رہتا ہے ۔میدان کربلا میں یزیدیت نے مظلوم حسین ؑ سمیت رسول اللہ ؐ کے خاندان کو قتل کر دیا مگر حسینیت ؑ آج بھی زندہ ہے ۔ ریاستی طاقت رکھنے والے الطاف حسین کو تو مارسکتے ہیں مگر الطاف حسین نے پاکستان بھرکے مظلوموں کیلئے جو نظریہ دیا ہے اسے طاقت کے ذریعہ ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج ایم کیوایم کا 34 واں یوم تاسیس ہے اور میں اپنے لوگوں سے خطاب کررہا ہوں اورآبپارہ میں آئی ایس آئی کی پوری بٹالین بھی میرا خطاب دیکھ رہی ہے ورنہ آئی ایس آئی اور جی ایچ کیو والوں نے تو مجھے مردہ قراردے دیاتھا۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ یہ حق و باطل اور ظالم و مظلوم کی جنگ ہے جو ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی ۔ ظلم و جبر کے خلاف فاٹا کے قبائلی علاقوں سے شروع ہونے والی تحریک بلوچستان کی وادیوں میں پہنچ گئی ہے اورمظلوموں کی آواز پوری دنیا میں سنی جارہی ہے ۔ اب مظلوم سندھی بھائیوں کا فرض ہے کہ وہ سائیں جی ایم سید کی تعلیمات کے مطابق حق کا پرچم تھامیں اور ظالم و جابرقوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے الطاف حسین کی طرح میدان عمل میں آئیں ۔ پنجابی طلبا و طالبات یہ نہ سمجھیں کہ میں کسی آزاد پنجاب کی بات کررہا ہوں ، میں انہیں فوج اورآئی ایس آئی کے ظلم سے نجات دلانے کی بات کر رہا ہوں، ہم آزادی کی بات اس تناظر میں کرتے ہیں کہ ملک بھر کے مظلوم متحد ہو کر جدوجہد کریں۔ میں ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اورسرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہوں اور ملک میں غریب و متوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کر رہا ہوں لہٰذا مظلوم و محروم پنجابی عوام بشمول سرائیکی عوام بھی میدان میں آکر مظلوم پنجابیوں کو ظلم وجبر کے نظام سے نجات دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لسانی اور فرقہ وارانہ فسادات ہوئے نہیں بلکہ کرائے گئے ہیں ، آئی ایس آئی اور فوج نے ایک سازش کے تحت مظلوم بھائیوں کو آپس میں لڑایا تاکہ مظلوم عوام آپس میں لڑتے رہیں اور کرپٹ جرنیل غنڈہ گردی کرتے رہیں۔ جناب الطاف حسین نے پشتونوں، سندھیوں، پنجابیوں، بلوچوں، قبائلیوں، پختونوں، کشمیریوں، ہزاروال، گلگت اور، بلتستان کے عوام سمیت تمام مظلوم قومیتوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اصل ظالم کون ہے ۔ آج ملک کے کونے سے کونے سے فاٹاکے لوگوں کی آواز اٹھ رہی ہے کہ یہ’’ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘‘۔ ماضی میں ایک سازش کے تحت مظلوم قومیتوں کو آپس میں لڑایا گیا ، مظلوم قومیتیں ایک دوسرے کا نقصان کرتی ر ہیں ۔ آج کے دن الطاف حسین آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ مہاجرقوم کی جانب سے کوئی زیادتی ہوئی ہے تو میں ان سے معافی مانگتا ہوں، ہرقومیت سے تعلق رکھنے والے افراد سے کہتا ہوں کہ مہاجروں کو معاف کرو، مہاجروں کاخون ہوا ہے تو اللہ معاف کرے ، الطاف حسین بھی معاف کرتا ہے اور تمام مظلوم قومیتوں کو دعوت دیتا ہے کہ آئیں، ہم ماضی کو بھول کر اپنے مشترکہ دشمن کو پہچانیں، ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اپنے اصل دشمن کے خلاف متحد ہوکر ظالموں اورجابروں سے آزادی حاصل کریں اور متحد ہوکر اپنے حقوق کی جدوجہد کریں۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ، تمام سیاسی جماعتوں سے لڑے مگر اداروں سے نہ لڑے ، چوہدری نثار صاف کیوں نہیں کہتے کہ فوج اور عدلیہ سے لڑائی نہ کی جائے ، اسی طرح آئی ایس آئی اورفوج کے پے رول پر کام کرنے والے اینکرز ، ٹی وی ٹاک شوز میں شریک سیاسی و دفاعی تجزیہ نگار وں کی جانب سے مسلسل یہی بات کہی جارہی ہے کہ اداروں کو کچھ نہ کہو یعنی ان کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ شیطانی کام کرنے والوں اورملک میں فساد پھیلانے والوں پر لاحول نہ بھیجی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جولوگ فوج اور عدلیہ کو مقدس ادارے کہتے ہیں وہ کان کھول کرسن لیں پاکستان میں باربار آئین توڑکر مارشل لاء نافذ کیا جاتا رہا ، 70 سال میں آدھا عرصہ فوج نے براہ راست پاکستان میں حکمرانی کی ، فوج نے آئین توڑا اور آئین توڑنا غداری کے زمرے میں آتا ہے لیکن کیا آئین توڑنے والے کسی ایک جرنیل کو سزا ہوئی؟ اسکندرمرزا،جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اورجنرل پرویزمشرف میں سے کسی کو سزا دی گئی؟ پرویز مشرف کو بھی سمجھنا چاہیے کہ عدلیہ نے صرف انکے خلاف ریڈ وارنٹ کیوں جاری کیے اور آئین شکنی کے مرتکب کسی اور جنرل کے خلاف ریڈ وارنٹ کیوں جاری نہیں کیے ۔ آئین کے تحت آئین توڑنا اور آئین شکنی میں معاونت کرنا غداری کے زمرے میں آتا ہے ، جب 1999ء میں جنرل پرویز مشرف فضا میں تھے اور جن لوگوں نے آئین شکنی کا عمل کیا ان میں سے کسی کا نام تک نہیں لیاجاتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے مارشل لاء کے نفاذ اور آئین وقانون توڑنے والے فوجی جرنیلوں کے اقدامات کو جائز قراردیا لیکن کیا کسی ایک جج کو بھی سزا دی گئی؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جنرل ثاقب نثار کچرے کے ڈھیر، ادویات کی قلت اور دودھ کے خلاف ایکشن لیتے ہیں لیکن بلوچوں، مہاجروں اور قبائلیوں کو لاپتہ کرنے اورانہیں ماورائے عدالت قتل کرنے والوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار تصور کریں کہ اگر کوئی ان کے سامنے ان کے بیٹے کو گرفتار کرکے لاپتہ کردے اور پھر وہ مردہ حالت میں پایا جائے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی، آج دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے لیکن پروفیسر حسن ظفر عارف شہید اور نقیب اللہ محسود شہید سمیت سینکڑوں بے گناہ افراد کا سفاک قاتل راؤ انوار آج تک گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔اس اہم معاملہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا انصاف کہاں چلاجاتا ہے ؟ اس کے باوجود بعض اینکرپرسنز ٹیلی ویژن پر آکر اداروں کے احترام کا درس دیتے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ سفاک قاتل راؤ انوار کی گرفتاری کا فارمولا یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف ، ان کے جوائنٹ ، آئی ایس آئی کے چیف ، انکے جوائنٹ، ایم آئی کے چیف اوران کے جوائنٹ افسران کو بلاکر تین دن کا نوٹس دیں کہ اگر تین دن کے اندر اندر راؤ انوار کو گرفتارنہ کیا گیا تو نہ صرف ان کی ملازمتیں ختم کردی جائیں گی بلکہ انہیں تاحیات جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ اس فارمولے پر عمل کرنے کے بعد اگر راؤ انوار کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش نہ کردیا جائے تو پھر جو چاہے الطاف حسین کو سزا دے دینا مجھے وہ سزا منظور ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اس وقت عدلیہ ، فوج کی بی ٹیم بنی ہوئی ہے ، عدلیہ کو پورے پاکستان میں صرف نواز شریف بدنام نظرآتے ہیں جبکہ عمران خان جیسے بدکردار کو صادق اور امین قرار دیا جاتا ہے جس کے بارے میں امریکی خاتون سیتا وائٹ خود کہہ چکی ہیں کہ عمران خان ان کی بیٹی کا باپ ہے ۔ اس موقع پر شرکاء کو ایک بڑی اسکرین کے ذریعہ سیتاوائٹ کا یہ انٹرویو بھی دکھایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں میرے گھر پرتالا لگایا گیا اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے مجھ پر بہتان تراشیاں کی گئیں لیکن آج یہ سب قدرت کے مکافات عمل کا شکار ہیں ۔ اگر کل وہ ایم کیوایم اور مہاجروں کے خلاف غیرآئینی اور غیرانسانی اقدامات پر ظالم قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے کہ الطاف حسین اورایم کیوایم کے ساتھ غلط ہورہا ہے تو آج ان کے ساتھ یہ سب کچھ نہیں ہوتا۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں میری تحریر و تقریر پر پابندی عائد کردی گئی، نائن زیرو پر تالا ڈال دیا گیا اور ملک بھرمیں میرے خلاف غداری کے مقدمات قائم کردیئے گئے جبکہ میں نے غداری نہیں کی تھی بلکہ صرف پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا تھا ملک نہیں توڑا تھا ۔ 1971ء میں فوجی جرنیلوں نے ملک توڑا لیکن پاکستان دولخت کرنے میں ملوث کسی ایک جرنیل کو سزا نہیں ہوئی اورآج تک حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ ان کرپٹ جرنیلوں نے باربار اپنی ہی قوم کو فتح کیا ہے مگرانہوں نے کبھی مسلح دشمن فوج کو نہیں للکارا ، آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی البتہ دشمن فوج کے سامنے ہتھیارڈال کر 93 ہزار نشان حیدر ضرور حاصل کیے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں ہرقسم کی دہشت گردی کے خلاف ہوں ، ملک میں جو دہشت گردی ہورہی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ فساد پھیلانا شیطان کا کام ہے ،جہاں دہشت گردی اور فساد ہوگا وہاں شیطان ہوگا لہٰذا جب فساد پھیلانے والی عدلیہ اورفوج کا نام آئے تو لاحول پڑھنا چاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مہاجر، پنجابی ، سندھی، بلوچ، پختون ، پشتون ، قبائلی، کشمیری، ہزاروال ، گلگتی اور بلتستانی مل کر ظالم و جابرقوتوں سے آزادی حاصل کرکے ملک کو ایسا بنائیں گے جہاں فوج قانون کے تابع ہو، فوج عوام کی حاکم نہیں بلکہ خادم ہو،عدلیہ ، ملک کے آئین ، قانون اور پارلیمنٹ کے تابع ہو، فوج سے ڈکٹیشن لینے اور فوج کے مفادات کا تحفظ کرنے والی نہ ہو۔ الطاف حسین بلا امتیاز رنگ ونسل، زبان ، قومیت، مسلک اور مذہب ہر پاکستانی کیلئے برابری کی بنیاد پر حقوق چاہتا ہے اور قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق تمام مذاہب اورعقائد کے ماننے والوں کی مذہبی آزادی پر یقین رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی انتہاء پسندی ہمارے معاشرے کیلئے زہر ہے اور ہر شہری کو چاہیے کہ وہ خود کو اس زہر سے محفوظ بنائے ۔ آج جو لوگ برطانیہ میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی باتیں کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ برطانیہ کے بجائے سعودی عرب جاکر شریعت نافذ کریں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں 27 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں اورآج بھی دن رات کام کرتاہوں ، ایک ہفتہ قبل چیف آ ف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے اپنے پسندیدہ صحافیوں کو بلاکر بریفنگ دی اور ایک سوال کے جواب میں کہا ’’کہ الطاف حسین ، ماضی ہوگئے ہیں ‘‘۔ میں جنرل باجوہ سے کہتا ہوں کہ کل آپ بھی ’’تھے‘‘ ہوجائیں گے ،فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد کوئی آپ کو پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا لیکن الطاف حسین رہے یا نہ رہے ، الطاف حسین کا نظریہ زندہ رہے گا۔

جناب الطاف حسین نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ کے شہری علاقوں سے بلدیاتی حقوق چھینے ، مہاجروں کے خلاف متعصبانہ اقدامات کیے اور حلقہ بندیوں میں دھاندلی کی، میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ اب صوبہ سندھ میں یہ سب نہیں چلے گا، اب سندھ میں 26 پیرلل لائن ضرور کھنچے گی اورسندھ کے شہری عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ ’’سندھ میں ہوگا کیسے گزار، آدھا ہمارا ، آدھا تمہارا‘‘ ۔ صرف صوبہ پنجاب پاکستان نہیں ہے بلکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان ، 26 پیرلل سندھ  اوردیہی سندھ بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین ملک کو قائم ودائم رکھنا چاہتا ہے اور ملک سے کرپٹ جرنیلوں اورجاگیرداروں کے تسلط کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اگر ارباب اختیار نے ملک میں آزاد صوبے نہیں بنائے تو پھر ایسا نہ ہو کہ صوبوں کا مطالبہ آزاد ملک کے مطالبے میں بدل جائے ۔مہاجروں سے تعصب اورنفرت میں کراچی کی آبادی چاہے ڈھائی لاکھ کردی جائے جس دن معرکہ ہوگا اس دن معلوم ہوجائے گا کہ مہاجروں کی آبادی ڈھائی لاکھ ہے یا 70 کروڑ ہے ۔جناب الطاف حسین نے مطالبہ کیا کہ دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا حق دیا جائے ۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اورآئی ایس آئی سے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں قائم چیک پوسٹوں پر پشتون خواتین ، بزرگوں اورنوجوانوں کی بے عزتی اوربے حرمتی کے واقعات کا نوٹس لیا جائے اور یہ سلسلہ فی الفوربند کرایا جائے۔جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے یوم تاسیس کی تقریب میں مختلف ممالک سے آنے والے ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورکارکنوں کو دل کی گہرائی سے خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر ریاستی جبر و تشدد کے باوجود کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ ، سانگھڑ ، ٹنڈوالہیار ، ٹنڈوجام اورسندھ کے دیگر علاقوں میں کارکنان وعوام اپنے اپنے گھروں پر یوم تاسیس کے کیک کاٹ رہے ہیں ، کٹھن اور کڑے حالات میں بھی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں ایسے تمام بزرگوں، ماؤں، بہنوں ، نوجوانوں اوربچوں کو سلام تحسین پیش کرتا ہوں اورانہیں یوم تاسیس کی مبارکباد دیتا ہوں۔