بہادرآباد ٹولے نے پہلے شہیدوں کے لہو کا سودا کیا اور اب وہ لاپتہ کارکنوں کا سودا کر رہے ہیں۔ڈاکٹر ندیم احسان

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرڈاکٹرندیم احسان نے کہا ہے کہ بہادرآباد ٹولے نے پہلے اپنے ظرف وضمیراور شہیدوں کے لہو کا سودا کیا اور اب وہ لاپتہ کارکنوں کا سودا کر رہے ہیں اور لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ کو بھی یہ سودا کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں، ہم اس کو یکسرمسترد کرتے ہیں ہم قائد تحریک الطاف حسین کی قیادت میں اپنے لاپتہ ساتھیوں کی بازیابی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بات آج انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں ایک اہم بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضا اور رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر ندیم احسان نے کہا کہ ریاستی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنان لاپتہ کئے گئے ہیں جن میں سے بعض کارکنان کئی سال سے لاپتہ ہیں ، ایم کیو ایم ان لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کا معاملہ نہ صرف پاکستان میں پارلیمنٹ اور ہر جگہ اٹھاتی رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اقوام متحدہ اور انسانی حقو ق کے اداروں کے پلیٹ فارم پر ان لاپتہ کارکنوں کی جبری گمشدگی کا مقدمہ پیش کرتی رہی ہے اور ان کی بازیابی کے لئے کوششیں کرتی رہی ہے اور آج بھی کر رہی ہے ۔ ان لاپتہ کارکنوں کا معاملہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سرکاری طور پر قائم ’’ مسنگ پرسنز کمیشن ‘‘ میں بھی کافی عرصہ سے چل رہا ہے جس نے جبری گمشدگیوں کا اعتراف بھی کیا اور ان لاپتہ افرادکی بازیابی کے لئے کارروائی بھی کی لیکن اب جبکہ بہادرآباد ٹولے کے افراد وفاقی کابینہ میں شامل ہیں توان کی جانب سے ایم کیوایم کے ان لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے کہا جارہا ہے کہ وہ پانچ لاکھ روپے بطور معاوضہ لے لیں اور اپنے لاپتہ بھائی ، بیٹے ،شوہر یا والد کی بازیابی کا کیس ختم کردیں ۔ اس سلسلے میں لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ پردباؤ ڈال کر ان سے ایک تحریری پر وفارما بھروایا جارہا ہے ۔ اس طرح ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے کہا جارہا ہے کہ وہ پانچ لاکھ روپے لے لیں اور اپنے پیاروں کا سودا کرلیں ۔ انہوں نے لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کو دیا جانے والا پروفارما بھی بریفنگ میں دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سودے بازی کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم قائد تحریک الطاف حسین کی قیادت میں اپنے لاپتہ ساتھیوں کی بازیابی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صر ف ہم ہی نہیں بلکہ لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ بھی اس کو مسترد کر رہے ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے کسی بھی قسم کی سودی بازی کرنے پرتیارنہیں ہیں۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ پی آئی بی اوربہادرآباد ٹولہ نے 22اگست 2016ء کوقائدتحریک الطاف حسین سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بعدشہیدوں، لاپتہ اوراسیرساتھیوں بھی لاتعلقی اختیارکرلی، عدالتوں میں لاپتہ ساتھیوں کے کیس کی پیروی تک کرنابندکردی اوران ساتھیوں اوران کے اہل خانہ کوان کے حال پر چھوڑدیا۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ1992ء کے آپریشن میں ایم کیوایم کے 28کارکن لاپتہ کئے گئے تھے جبکہ ستمبر2013ء سے جاری نئے ریاستی آپریشن کے دوران اب تک ایم کیوایم کے 500سے زائد کارکنان لاپتہ ہیں جن کوتاحال کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام لاپتہ افرادکوگھر، دکان یادفاترسے ان کے اہل خانہ یادیگرلوگوں کی موجودگی میں حراست میں لیاگیاتھا، سپریم کورٹ نے فروری 2010ء میں بھی لاپتہ کارکنوں کوجبری گمشدہ کرنے پرمتعلقہ پولیس افسران کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کاحکم دیاتھا، اس کے علاوہ بھی ہائیکورٹ میں مختلف مواقع پر پولیس اوررینجرز سے اس بارے میں جواب طلب کیاجاچکاہے لیکن یہ امرانتہائی قابل مذمت ہے کہ ریاستی اداروں کی جانب سے ان کارکنوں کی جبری گمشدگی سے صاف انکارکیاجاتارہاہے ۔ اسی طرح جب ایم کیوایم نے قائدتحریک الطاف حسین کی رہنمائی میں لاپتہ کارکنوں کا معاملہ اقوام متحدہ کے میں اٹھایا اوراقوام متحدہ کے کمیشن برائے جبری گمشدگی نے پاکستان سے اس بارے میں واضح طورپرجواب طلب کیا تووہاں بھی پاکستان کے نمائندے کی جانب سے یہی مضحکہ خیزجواب دیاگیاکہ یہ افرادخودہی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہاکہ ایم کیوایم کے ان کارکنوں کی جبری گمشدگی ایک حقیقی اورخالصتاًانسانی مسئلہ ہے جس سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔ ہم اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے اوراپنے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے لئے ہرسطح پر آوازاٹھاتے رہیں گے اورجدوجہدکرتے رہیں گے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے مطالبہ کیاکہ تمام لاپتہ کارکنوں کوفی الفوربازیاب کرایا جائے، ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات کرائی جائے اورذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ،قائدتحریک الطاف حسین کی تحریر وتقریر اور میڈیاکوریج پر پابندی ختم کی جائے ،ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروکوکھولاجائے ، ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر عائدپابندی ختم کی جائے اورایم کیوایم کے فلاحی ادار خدمت خلق فاؤنڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں پر عائدپابندی ختم کی جائے ۔ ڈپٹی کنوینرقاسم علی رضانے اس موقع پر کہاکہ بہادرآبادٹولہ نے کورنگی کی جس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے وہ اس رکن اسمبلی وجاہت کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی جوکینسر کے مرض میں مبتلاتھا، جس کی اہلیہ مددکے لئے بہادرآبادٹولے کے ارکان سے درخواست کرتی رہی لیکن بہادرآبادٹولے نے اس کی مددنہیں کی وہ انتقال کرگیا۔ انہوں نے کہاکہ بہادرآباد ٹولے نے اتوار27جنوری کوسیدعلی رضاعابدی شہید کے چہلم کابھی خیال نہیں کیااوراس روز کامیابی کاجشن منایا۔ انہوں نے کہاکہ بہادرآبادٹولہ نے شہیدوں کے لہوکاسوداکیاہے اورقوم انہیں معاف نہیں کرے گی۔ رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے گفتگوکرتے ہوئے سہراب گوٹھ پر پشتون تحفظ موومنٹ کے پرامن دھرنے کے بعد ایم کیوایم اورپی ٹی ایم کے کارکنوں اورہمدردپشتونوں اورمہاجروں کی گرفتاریوں اورجبری گمشدگیوں کے واقعات کی شدیدمذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ تمام گرفتارشدگان کوفی الفوررہاکیاجائے ،تمام لاپتہ افرادکوبازیاب کیاجائے اوراگرکسی پر کوئی مقدمہ ہے توعدالتوں میں پیش کیاجائے اوران لاپتہ افرادکوبھی اپنی صفائی کے لئے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔