سانحہ حیدرآباد مہاجروں کے قتل عام کا ایسا المناک واقعہ ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔الطا ف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ 30 ستمبر 1988ء کو پیش آنے والا سانحہ حیدرآباد مہاجروں کے قتل عام کا ایسا المناک واقعہ ہے جسے کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ سانحہ حیدرآباد 30ستمبر88ء کے شہداء کی 30ویں برسی کے موقع پر اپنے ایک بیان میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ 30 ستمبر 1988ء وہ دن ہے جب جدید وخود کار ہتھیاروں سے مسلح درندہ صفت دہشت گردوں نے حیدرآباد کے مختلف علاقوں پر حملہ کر کے معصوم و بے گناہ مہاجروں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں ، آدھے گھنٹے تک حیدرآباد کے مہاجر دکانداروں، اپنے گھروں کے باہر بیٹھے اور راہ چلتے مہاجر نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں پر اندھا دھند گولیاں برسائی جاتی رہی، ان کا وحشیانہ قتل عام ہوتا رہا لیکن پولیس، رینجرز، فوج، انتظامیہ کوئی بھی حیدرآباد کے مہاجروں کو ان حملہ آور دہشت گردوں سے بچانے نہیں آیا۔ 200 سے زائد معصوم و بے گناہ مہاجروں کو شہید کردیاگیا لیکن آج 30 برس گزر جانے کے باوجود بھی اس قتل عام میں ملوث درندہ صفت قاتلوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی اسلئے کہ جن کا قتل عام کیا گیا وہ سب مہاجر تھے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جس ملک میں اتنے بڑے قتل عام کو بھی نظر انداز کردیا جائے اور مقتولین کو انصاف فراہم نہ کیا جائے صرف اسلئے کہ ان کا تعلق کسی ایک مخصوص لسانی اکائی سے ہے ،وہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نہیں عذاب نازل ہوا کرتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ یہ سانحہ حیدرآباد پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا،یہ سانحہ پاکستان کے نظام انصاف، آئین اور قانون پر لگنے والا ایسا داغ ہے جسے مٹایا نہیں جاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے سانحہ حیدرآباد کے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شہداء کا خون ضرور رنگ لائے گا اور مہاجروں کے حقوق اور بقاء کی یہ تحریک کامیابی سے ضرور ہمکنار ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے سانحہ حیدرآبادکے تمام شہیدوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ انہوں نے تمام کارکنان اور ہمدرد عوام سے کہا کہ وہ سانحہ حیدرآباد کے شہداء کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں کیونکہ جو قومیں اپنے شہیدوں کو فراموش کردیتی ہیں زمانہ انہیں فراموش کردیتا ہے۔