سعودی وزیرخارجہ کا پاکستان میں بیٹھ کر ایران کو مٹانے کی دھمکیاں دینا انتہائی تشویشناک ہے،الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ کااسلام آبادمیں بیٹھ کر پاکستان کے وزیرخارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کوکھلی دھمکیاں دیناانتہائی تشویشناک اورباقاعدہ جنگ کی دھمکی کے مترادف ہے ،پاکستان کے وزیراعظم ، آرمی چیف اورحکومت کوچاہیے کہ وہ قوم کوجواب دیں کہ سعودی عرب کوایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سوشل میڈیا کے ذریعے کارکنان وعوام سے اپنے تازہ خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیاکاکوئی بھی آزاداورخودمختارملک کسی بھی ملک کے سربراہ حکومت یابادشاہ کویہ حق نہیں دیتاکہ وہ اس کے ملک میں آکرکسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی دشمنی یانفرت کااظہارکرے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان ایک آزاداورخودمختارملک ہے یاکسی کاغلام اورلے پالک ملک ہے ؟ اگرنہیں توپھر سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیرنے پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں پڑوسی ملک ایران کے بارے میں یہ کیسے کہاکہ ’’ایران ایک دہشت گرد ملک ہے اورہم ایران کواس دنیاسے مٹادیں گے ‘‘ ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ یہ توایران کے خلاف ایک کھلی جنگ کی بات ہے ،آخر اس موقع پر پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے سعودی وزیرخارجہ کوایک پڑوسی ملک کے خلاف اس طرح کی دھمکی آمیزگفتگوسے کیوں نہیں روکا؟ حکومت اورفوج نے انہیں کیوں نہیں روکا؟ جناب الطاف حسین نے ایران کے خلاف سعودی عرب کے وزیرخارجہ کوپاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے اور وزیراعظم ، وزیرخارجہ، حکومت، فوج آرمی چیف اورکورکمانڈروں کی جانب سے اس عمل پر خاموشی اختیارکرنے کی شدیدمذمت کی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے وزیراعظم،صدراورآرمی چیف قوم کوکھل کربتائیں کہ سعودی عرب کوایران کے خلاف دھمکیاں دینے کے لئے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ کیاہم ایران اورافغانستان سے جنگ کرناچاہتے ہیں؟انہوں نے کہاکہ آدھاپاکستان چائناکودیدیاگیاہے اور آدھا پاکستان 20بلین ڈالر کے عوض سعودی عرب کودیدیاگیاہے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بظاہر یہی لگتاہے کہ سعودی عرب کی جانب سے ایران کے خلاف پاکستان کی سرزمین کواستعمال کرنے کا منصوبہ یہ بنایاگیاہے اور یہ فوج کی مرضی کے بغیرنہیں ہوسکتا۔

جناب الطا ف حسین نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اوردنیابھرکے جمہوری ممالک کے صدوراوروزرائے اعظم اورپوری انٹرنیشنل کمیونٹی کومخاطب کرتے ہوئے ان سے سوال کیاکہ کیاکوئی آزادوخودمختار ملک کسی بھی ملک کو کسی بھی خود مختارقو م کے خلاف جنگ کرنے کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے سکتاہے؟پاکستان نے سعودی عرب کوایران کے خلاف دھمکی دینے کیلئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی اورسعودی عرب نے بھی ایک آزاد ملک کی خودمختاری کے احترام کے لئے مجوزہ عالمی اصولوں اورسفارتی آداب کی خلاف ورزی کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ نے اپنی پریس کانفرنس میں ایران پر دہشت گرد ی کے جوالزامات لگائے اوراس کے خلاف جودھمکی دی ہے وہ ایک جنگ کی حیثیت رکھتی ہے اوراس موقع پر پاکستانی وزیرخارجہ نے خاموشی اختیار کی لہٰذا انٹرنیشنل کمیونٹی کوچاہیے کہ وہ عالمی اصولوں اورسفارتی آداب کی خلاف ورزی کانوٹس لیں اوراس کشیدگی کوروکیں ورنہ یہ صورتحال دنیاکے امن اوراستحکام کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایران اوردیگرممالک کے خلاف پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کے عمل میں پاکستان کی فوج اورسویلین قیادت اسلئے کوئی مداخلت نہیں کرسکتے کیونکہ یہ ان ممالک سے بھیک لینے والے ہیں، انہوں نے عرب ممالک کی ایما پر پاکستان کودہشت گردی کامرکز بنادیاہے، باہرسے پاکستان میں بھیک کاپیسہ ، اسلحہ آرہی ہے اورپاکستان کی سرزمین کوکبھی ایران کے خلاف، کبھی افغانستان کے خلاف استعمال کیاجاتاہے،کبھی پاکستان میں آباد شیعوں، احمدیوں، عیسائیوں،یہودیوں، ہندؤوں اوردیگرمذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کیاجاتاہے۔ ناب الطاف حسین نے کہاکہ سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم ،وزرا، آرمی چیف ، تمام فوجی جرنیلوں نے ایک خودمختار ملک کے حکام کی طرح عمل نہیں کیابلکہ یہ سب بھکاریوں کی طرح سعودی ولی عہد کے قدموں میں بچھے جارہے تھے،انہوں نے ہمیشہ یہی طرزعمل اختیار کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی فوج کسی آزادملک کی نہیں بلکہ ایک کرائے کی فوج بن کررہ گئی ہے اوربیرونی آقاؤں کے اشارے پرڈالر لے کرجہادی اور مسلح جھتے بناکر کبھی فلسطین، کبھی اردن، کبھی شام اورکبھی افغانستان اور دنیابھرمیں دہشت گردی کراتے ہیں۔ فوج نے افغانستان کو کھنڈربنادیاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں بعض شیعہ تنظیموں کا نام لیکرکہاگیاتھاکہ ’’ سعودی وی وی آئی پیز کی آمد کے موقع پر یہ تنظیمیں نفرت پھیلارہی ہیں‘‘۔ اس نوٹیفکیشن میں خاص طورپر ’’ شیعہ کمیونٹی ‘‘ کالفظ استعمال کیا گیا اوریہ کہاگیاکہ ا س کمیونٹی کی سب سے زیادہ سرگرمیاں کراچی میں ہورہی ہیں لہٰذا ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ جناب الطاف حسین نے اس نوٹیفکیشن کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ اگرشیعہ کمیونٹی بادشاہت کے خلاف جذبات رکھتی ہے تویہ اس کاحق ہے، کروڑوں سنی بھی ایسے ہیں جوبادشاہی نظام کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلک اورعقائد کی بنیادپراہل تشیع کمیونٹی کو کافرقراردینا اور اس کاقتل کرناسراسرظلم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سعودی مسلک کی انتہاپسندمذہبی جماعتیں بناکر ملک میں اہل تشیع افراد کاقتل عام کرایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تمام شہریوں کاہے ، حالانکہ قائداعظم مسلک کے اعتبار سے خوجہ اثنائے عشری شیعہ تھے لیکن انہوں نے پاکستان کوشیعہ اسٹیٹ نہیں بنایا بلکہ انہوں نے یہی اعلان کیا کہ پاکستان یہاں بسنے والے تمام شہریوں کاہے ۔جناب الطا ف حسین نے شیعہ سنی عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت اوراسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شیعہ اور سنی عوام کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی تمام سازشوں کوناکام بنادیں اورآپس میں اپنے اتحادکوقائم رکھیں۔ جناب الطاف حسین نے سعودی ولی عہد کی آمد کے موقع پر کراچی میں اہل تشیع کمیونٹی کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ہونے والے پرامن مظاہرے کے موقع پر پولیس ، رینجرزاورسرکاری ایجنسیوں کے ایکشن اورشیعہ مسنگ پرسنز کے راشدرضوی اوردیگرافرادکی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی اورتمام گرفتارشدگان کی رہائی کامطالبہ کیا۔