سفاک قاتل راؤ انوار کو فراہم کی گئی وی آئی پی سہولیات کا نوٹس لیا جائے ،رابطہ کمیٹی ایم کیوایم

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ہزاروں بے گناہ شہریوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث پولیس افسر راؤ انوار کووی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ کراچی لانے اورملیرکینٹ تھانے سے گھر منتقل کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ہزاروں مہاجر، بلوچ اور قبائلی نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہے اور راؤ انوار کی سفاکیت اور درندگی کے واقعات تسلسل کے ساتھ میڈیا پر نشر و شائع کیے جارہے ہیں ۔ راؤ انوار معروف دانشور اورفلاسفر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف اور قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود سمیت 444 ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں باقاعدہ نامزد ہے اور خود اعتراف بھی کرچکا ہے کہ اس نے ایم کیوایم کے کارکن فاروق پٹنی کے ماورائے عدالت قتل سے حاصل ہونے والی انعامی رقم سے گھر خریدا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ان حقائق کے باوجود سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو ریمانڈ پر نہیں بھیجا اور جیل میں قید کرنے کے بجائے کراچی بھیج دیا۔ رابطہ کمیٹی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پربھی راؤ انوار کو نہ تو ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور نہ ہی اسے عام ملزمان کی طرح عدالت میں پیش کیا گیا بلکہ وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا اور اسی پروٹوکول کے ساتھ راؤ انوار کو کراچی لایا گیا اور ملیرکینٹ تھانے سے گھر منتقل کردیا گیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایک جانب کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ عادی مجرموں اور جنگی قیدیوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ، گرفتاری کے بعد ان کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا جاتا ہے اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب ہزاروں بے گناہ شہریوں کے سفاکانہ قتل اورانسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں ملوث راؤ انوار کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت، آئین و قانون کی سربلندی اور احترام انسانیت کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے لیکن سندھ حکومت کی جانب سے بے گناہ شہریوں کے سفاک قاتل راؤ انوارکراچی میں وی آئی پی پروٹوکول دینے اور تھانے کے بجائے گھر منتقل کرنے سے ثابت ہوگیا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت راؤ انوار جیسے سفاک قاتل کو ہرطرح کی سہولیا ت فراہم کررہی ہے اور ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کررہی ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے ارباب اختیار اور اقتدار سے مطالبہ کیاکہ بے گناہ شہریوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث سفاک قاتل راؤ انوار کو فراہم کی گئی وی آئی پی سہولیات کا نوٹس لیاجائے ، راؤ انوار کو آئین و قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے اور اسے تھانے میں عام قیدی کی طرح رکھا جائے ۔