سید علی رضا عابدی شہید کے بہیمانہ قتل میں قائد تحریک الطاف حسین کو ملوث کرنا قابل مذمت ہے۔ رابطہ کمیٹی

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایک نجی ٹی وی چینل پر نشرہونے والی خبر کے مطابق محکمہ داخلہ کی جانب سے ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی سید علی رضا عابدی شہید کے بہیمانہ قتل میں بانی و قائد تحریک الطاف حسین کو ملوث کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سید علی رضاعابدی شہید کے قتل میں قائد تحریک الطاف حسین کو ملوث کرنا انتہائی مضحکہ خیز ہے ، سیدعلی رضاعابدی شہید اپنی شہادت سے پہلے ایک آڈیو پیغام میں خود صاف اور واضح الفاظ میں انکشاف کرچکے ہیں ہے کہ انہیں فوج، رینجرز اور آئی ایس آئی کی جانب سے بلایا جاتا رہا ہے اور قائد تحریک الطاف حسین کی حمایت کرنے پر انہیں دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں اور پی ایس پی اور بہادرآباد ٹولہ کے افراد انکی ٹیوٹ کو فوج، رینجرز اورآئی ایس آئی والوں کو بھیجتے رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ واضح ہے کہ سید علی رضا عابدی شہید کے بہیمانہ قتل میں کون ملوث ہے اور کون انہیں راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ چند روز قبل سرکاری ایجنسیوں نے ایک لاپتہ نوجوان محمد حسن عباس کوعلی رضاعابدی شہید کے قتل میں ملوث قرار دیا تھا لیکن وہ کہانی بھی سراسرجھوٹ ثابت ہوگئی کیونکہ محمد حسن عباس اکتوبر کے مہینے سے سرکاری ایجنسیوں کی تحویل میں ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ سیدعلی رضاعابدی شہید کے قتل میں قائد تحریک الطاف حسین کوملوث کرنا اور اسی طرح کے دیگرشرانگیز الزامات لگانا اسٹیبلشمنٹ کی پرانی کرمنلائزیشن پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد قائد تحریک الطاف حسین کو بدنام کرنا، ان کے خلاف جھوٹے اورمن گھڑت مقدمات قائم کرنا اور ان کا میڈیا ٹرائل کرنا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جاسکے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ عوام اور انسانی حقوق پر یقین رکھنے والے حلقے ان بیہودہ اور شر انگیز الزامات اور ان کے مقاصد کواچھی طرح سمجھتے ہیں ، انشاء اللہ مہاجر دشمن قوتوں کے ایم کیوایم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے۔