فاروق ستارکی جانب سے ریاستی آپریشن کے کرداروں کو ہیروقرار دینا شہیدوں کے لہوکی کھلی توہین ہے ۔رابطہ کمیٹی ایم کیوایم

ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستارکی جانب سے ایک ٹی وی انٹرویو میں ایم کیوایم کے خلاف بدترین ریاستی آپریشن کے مرکزی کرداروں کو ہیرو قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے اوراس عمل کوقوم کے شہیدوں کے لہو کی کھلی توہین قراردیاہے ۔ اپنے ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ویسے تو ایم کیوایم کے خلاف 19جون 1992ء کوجو فوجی آپریشن شروع کیا گیا وہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود ہردورمیں جاری رہا جس کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کیا گیا اور ظلم وجبر کے پہاڑتوڑے گئے ۔ ایم کیوایم کے خلاف حالیہ آپریشن جوستمبر2013ء میں شروع کیا گیا اس کے دوران بھی ایم کیوایم کے سو سے زائد کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا جن میں ایم کیوایم کے کارکن آفتاب بھی شامل ہیں جو ڈاکٹر فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر تھے جنہیں رینجرز نے سرکاری حراست میں سفاکانہ تشددکانشانہ بناکرشہید کردیاتھاجس کی تحقیقا ت کااعلان خودسابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کیا تھالیکن قاتلوں کوکوئی سزانہیں دی گئی۔اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں قید کردیا گیا جبکہ دوسو سے زائد کارکنان تاحال لاپتہ ہیں، کئی کارکنوں کو22 اگست 2016ء کے بعد شہید کیا گیا اور13جنوری 2018ء کوایم کیوایم کے بزرگ رہنما ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو گرفتارکرنے کے بعد تشدد کرکے شہید کردیا گیا۔آج بھی ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا جارہا ہے ، ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے ، مہاجروں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ ریاستی آپریشن صرف اورصرف ایم کیوایم کے خلاف کیا جارہا ہے جبکہ لیاری گینگ وارکے جرائم پیشہ عناصرآج بھی تاجروں سے کھلے عام بھتہ وصول کررہے ہیں، ڈکیتی، اغوابرائے تاوان اورجرائم کی وارداتیں اسی طرح ہورہی ہیں، کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد شہرمیں اسی طرح دندناتے پھررہے ہیں۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ فاروق ستارریاستی آپریشن کرنے والے مرکزی کرداروں کو کیا اس بات کا کریڈٹ دے رہے ہیں کہ انہوں نے ایم کیوایم کوکچل کربہت اچھا کام کیاہے؟ کیا وہ انہیں اس بات کیلئے ہیروقرار دے رہے ہیں کہ انہوں نے سینکڑوں بے گناہ مہاجر نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی بوڑھی ماؤں سے ان کے سہارے چھین لئے؟ سہاگنوں کو بیوہ کردیا بچوں کو یتیم کردیا؟ گھروں کے گھر اجاڑ دیے ؟ کیا فاروق ستار انہیں اس بات کا کریڈٹ دے رہے ہیں کہ ظالموں نے مہاجروں کوان کے اپنے ہی شہروں میں تیسرے درجے کا شہری اور غلام بنا دیا ہے؟ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ انتہائی شرم اورافسوس کی بات یہ ہے کہ ظالموں کی تعریفیں کرتے ہوئے فاروق ستار تحریک کے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ ساتھ اپنے ہی کوآرڈی نیٹر آفتاب احمدکے سفاکانہ ماورائے عدالت قتل کو بھی بھول گئے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ فاروق ستارنے اپنے ان خیالات کے ذریعے بتا دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر لوگ کس قدر گرسکتے ہیں ۔ ایسا کرنے والے قوم کے دشمنوں کو توشائد خوش کرسکتے ہوں لیکن اپنی قوم کی نظروں میں مزید گرجاتے ہیں۔