منظور پشتین اوردیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات فی الفورختم کئے جائیں۔ ڈاکٹرندیم احسان ،کنوینر ایم کیوایم

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر ندیم احسان نے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین اوردیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات قائم کرنے کی شدید مذمت کی ہے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ منظورپشتین اور ان کے ساتھیوں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے ریاستی آپریشن کے نام پر قبائلی علاقوں اور ملک کے دیگر حصوں میں پختونوں پرہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کی، انہوں نے ریاستی مظالم کا نشانہ بننے والے پختونوں کے لئے انصاف مانگا اورصرف یہی کہا کہ پختونوں کے ساتھ بھی ملک کے برابرکے شہری جیسا سلوک کیا جائے ۔منظور پشتین نے اسلام آباد ہی نہیں بلکہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے شہروں میں اجتماعات منعقد کرکے پختونوں میں بیداری کی لہر پیدا کی لیکن اس کی پاداش میں منظور پشتین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ قائم کردیا گیا ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ ڈاکٹرندیم احسان نے کہا کہ اپنے مؤقف کے حق میں جلسہ جلوس کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو طاقت سے دبانے کی روش اپنالی گئی ہے ۔ قائد تحریک الطاف حسین نے ریاستی مظالم کے خلاف آواز بلند کی تو میڈیا پر ان کے بیانات اور تقریرکی نشر و اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی ۔انہوں نے سوال کیا کہ ہمارے ریاستی ادارے ملک کے تحفظ کے لئے ہیں یا ملک کوتباہ و برباد کرنے کے لئے ہیں؟ڈاکٹرندیم احسان نے مطالبہ کیا کہ منظور پشتین اوردیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات فی الفورختم کئے جائیں اورپشتون رہنماؤں کو ریاستی طاقت کے ذریعے خاموش کرنے کے بجائے ان کی آواز کو سنا جائے اور ان کے مطالبات پر ہمدردانہ غورکیا جائے ۔