میں نے نیک نیتی اورسچائی کے ساتھ قوم کیلئے جدوجہد کی اورجدوجہدمیں 41سال گزاردیے ،الطا ف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ میں نے پوری نیک نیتی اورسچائی کے ساتھ مظلوم قوم کے لئے جدوجہد کی ،میں نے جس قوم کے لئے 41سال گزاردیے ،شہادتوں،دربدری ، گھربار کے اجڑنے سے لیکر27سالہ جلاوطنی تک کونسی ایسی قربانی ہے جو میں نے یامیرے خاندان نے نہ دی ہو، میں نے گمنام لوگوں کوکہاں سے کہاں پہنچا دیا لیکن اپنے بھائی بہنوں کونہ تو کونسلر ، یوسی چیئرمین یا ٹاؤن چیئرمین بنایا اورنہ ہی ایم پی اے ،ایم این اے بنایااور جوگمنام لوگ میرے نام پربغیرایک ٹیڈی پائی خرچ کئے کونسلر،یوسی وٹاؤن چیئرمین، ایم پی اے ،ایم این اے ، سینیٹربنے وہی قوم کے غدارنکل گئے ۔ جناب الطا ف حسین نے یہ بات بدھ کی شام ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں ا پنے والد مرحوم حضرت نذیر حسین ؒ کی 52 ویں برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجتماع میں اراکین رابطہ کمیٹی اورایم کیوایم یوکے کے ذمہ داروں اورکارکنوں نے شرکت کی ۔ اپنے والد حضرت نذیر حسین مرحوم کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میرے والد نذیرحسین مرحوم ایک انتہائی شفیق اوربزرگ ہستی تھے،وہ پنج وقتہ نمازی،تہجد گزار اورشجرہ نسب کے حساب سے مفتی ء شہر آگرہ اور جامع مسجد آگرہ کے امام، مفتی حافظ محمدرمضان رحمت اللہ علیہ کے صاحبزادے تھے ۔ میرے سگے دادا حضرت مفتی محمدرمضان ؒ کا اصل وطن قصبہ لیدری ، خطیب ضلع فتح پور ہنسوہ تھا، مفتی محمدرمضان کے والد ماجد یعنی میرے پرداداکانام مولوی ببر علی بیگ تھا۔ میرے داداحضرت مفتی محمدرمضان اپنے وقت کے جید بزرگ عالم ،حافظ ، واعظ اور خطیب تھے ۔ میرے دادامولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی ؒ کے شاگر اورمولاناسلامت اللہ صاحب ؒ کے مرید تھے ۔ ان کے ہاں میرے والد مرحوم کی پیدائش اورتعلیم وتربیت ہوئی۔ چونکہ میرے دادا مرحوم ؒ بزرگان دین کے سلسلے کے بہت مشہورومعروف بزرگ تھے ۔سچ، حق بات کہنے اورلوگوں کی فلاح کی وہی تعلیم وتربیت میرے والد کوملی اور میرے والد محترم نے مجھے سمجھائی، سکھائی اورباربار کوتاہیوں غلطیوں پر ٹوک ٹوک کر مجھے بتایاکہ کس بات کوکیسے کرناچاہیے ،کیسے کہناچاہیے۔ میرے دادا جومفتی شہر آگرہ تھے،اگران کے بارے میں کسی کو معلوم کرناہو تو ایک کتاب ’’مشاہیر اکبرآباد ۔۔۔ بوستان اخیار ‘‘ ہے ،اس کتاب میں آگرہ کے ایک ہزارسالوں میں جو283 بزرگان دین گزرے ہیں ،اس کتاب کے صفحہ 255 پر میرے دادامفتی محمدرمضان کاتذکرہ موجود ہے۔ سچ حق کی جدوجہد کرنے ،کسی کی امانت میں خیانت نہ کرنے، جھوٹ مکرسے کام نہ لینے کادرس میرے والدمحترم نے اپنے والد مفتی،حافظ ،قاری خطیب ، مفتی شہرآگرہ حافظ محمدرمضان ؒ سے حاصل کیا۔ وہی درس انہوں نے مجھے دیا اوراللہ تعالیٰ کافضل ہے کہ ان کی تعلیم وتربیت سے میں نے حق، سچ اور مظلوموں کی فلاح بہبود کا جو علم اٹھایاتھا، آج تک اسے تھامے ہوئے ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ 41سالہ جدوجہد میں میں قوم کوشائد اس طرح بیدار نہیں کرسکا جس طرح اس کی ضرورت تھی۔ ، اس میں اللہ ہی بہترجانتاہے کہ میری کیاکیاکوتاہیاں غلطیاں ہیں یاپھرمیری قوم ’’ ثم بکم فہم لایرجعون ‘‘ کے مطابق کہ اللہ تعالیٰ جن کے کانوں ، آنکھوں ، سینوں پرپردے ڈال دیتاہے اورانہیں سچ اورجھوٹ کافرق سمجھانے کے باوجود نہ سچ نظرآتاہے اورنہ جھوٹ نظرآتاہے ، اس نے ایسا کیوں کیا ، اس کابہترفیصلہ توروزمحشر ہی اللہ تعالیٰ کے حضور ہوگا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں نے پوری نیک نیتی سے جدوجہد کی اور جس قوم کیلئے 41سال گزار دیے ،شہادتوں،دربدری ، گھربار کے اجڑنے سے لیکر27سالہ جلاوطنی تک کونسی ایسی قربانی ہے جو میں نے یامیرے خاندان نے نہ دی ہو، میں نے گمنام لوگوں کوکہاں سے کہاں پہنچادیالیکن اپنے بھائی بہنوں کونہ تو کونسلر ، یوسی چیئرمین یا ٹاؤن چیئرمین بنایا اورنہ ہی ایم پی اے ،ایم این اے بنایااور جوگمنام لوگ میرے نام پربغیرایک ٹیڈی پائی خرچ کئے کونسلر،یوسی وٹاؤن چیئرمین، ایم پی اے ،ایم این اے ، سینیٹربنے وہی قوم کے غدارنکل گئے ،اب اس پر میں کیاکرسکتاہوں۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جن جن لوگوں نے میرے والدمحترم کی 52ویں برسی کے موقع پر قرآن مجید کی سورتیں، آیات ، وضائف پڑھے ، اسی طرح آپ ہرسال میری والدہ کی برسی پر 5دسمبر کوہرسال برسی مناتے ہیں۔ میں اپنے ماں باپ کی تربیت کاسمبل ہوں۔ دنیاچاہے کچھ بھی کہے ، اللہ تعالیٰ دلوں کااورذہنوں میں کیاکیاچھپاہے، وہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہترجاننے والاہے ۔ جناب الطا ف حسین نے اس موقع پر خوش الحانی سے تلاوت کی ، اپنے والد مرحوم اورتمام شہدا اورمرحومین کے لئے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں نے میرے والد کے ایصال ثواب کے لئے قرآن مجید کی سورتیں، آیات اوروضائف پڑھے ،اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اورپڑھنے والوں وران کے مرحومین کواس کااجر عطا فرمائے ۔ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے علاوہ جہاں جہاں بھی لوگوں نے میرے والد کی برسی پر قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کی اللہ انہیں اس کااجر عطافرمائے۔ جناب الطاف حسین نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعاکرتے ہوئے کہاکہ ہم بے کس ومجبور ہیں، ظالم ویزیدی قوتیں پاکستانی فوج کی شکل میں ہم مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اوردیگرمظلوموں پر قیامتیں ڈھارہی ہیں، اللہ تعالیٰ ہم مظلوموں کواس ظلم سے نجات دلائے اورظلم ڈھانے والوں کونیست ونابود کردے ۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ تمام مظلوموں کی غیب سے مددفرمائے، سب کی پریشانیوں اورمشکلات کودورفرمائے اورسب کی جائزمرادوں اورحاجات کوپورافرمائے ۔