پاکستان میرے آباؤ اجداد نے بنایا ہے ، میں نے پاکستان کو نہیں ظالمانہ نظام کو مردہ باد کہا تھا۔ الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میرے آباؤ اجداد نے بنایا ہے ، میں نے پاکستان کو مردہ باد نہیں کہا بلکہ اس نظام کو مردہ باد کہا تھا جس میں لوگوں پر ظلم کیا جائے ، جہاں مظلوموں کے ساتھ انصاف نہ ہو، قانون کی حکمرانی نہ ہو ۔ میں اپنے لوگوں کے لئے انصاف اور ان کے حقوق مانگ رہا ہوں لیکن حقوق مانگنے پر مجھے غدار کہا جارہا ہے ۔ غدارمیں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو عوام پر ظلم کررہے ہیں اور حقوق مانگنے پر انہیں ریاستی طاقت سے کچلنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو کارکنوں اور ہمدردوں سے اپنے ایک تفصیلی اور اہم خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین کا یہ تفصیلی خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے براہ راست نشر کیا گیا۔ اپنے ساڑھے تین گھنٹے طویل خطاب میں جناب الطاف حسین نے قیام پاکستان کے بعد سے مختلف شعبوں میں مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں ،زیادتیوں اور حق تلفیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں مہاجروں کے قتل عام کے واقعات کو بھی بیان کیا ۔ انہوں نے ایم کیوایم کے خلاف جاری آپریشن، حالیہ الیکشن اور مجموعی حالات کے بارے میں بھی تفصیلی اظہارخیال کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ قیام پاکستان کی جدوجہد برصغیرکے ان مسلم اقلیتی علاقوں میں چلی جو آج پاکستان میں شامل نہیں ہیں ۔ ان مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں اور وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر کے آئے ، ہجرت کے دوران ان کی ٹرینیں کاٹ دی گئیں لیکن پاکستان کے لئے اپناسب کچھ قربان کرنے والوں کو پاکستان میں برابرکے حقوق نہیں ملے بلکہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا گیا جو آج بھی جاری ہے ۔جنرل ایوب خان نے مہاجروں کے بارے میں کہا کہ’’ مہاجروں کے لئے سمندر ہے ‘‘ ۔ آج بھی فوج، رینجرز اور سرکاری ایجنسیوں کے اہلکار ہمارے گھروں میں چھاپے مارتے ہیں تو ان کی جانب سے انتہائی نازیبا سلوک کیا جاتا ہے ، ہماری ماؤں بہنوں ،نوجوانوں اور بزرگوں سے کہا جاتا ہے کہ’’ تم لوگ ہندوستوڑے ہو، تم پاکستان کیوں آگئے، تمہارا پاکستان پر کوئی حق نہیں،تم واپس انڈیا جاؤ ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان فوجیوں نے نہیں بلکہ ہمارے آباؤاجداد نے بنایا، ہمیں طعنے وہ لوگ دے رہے ہیں جنہوں نے تحریک آزادی کے دوران انگریزوں کی وفاداری کی،جنہوں نے قیام پاکستان کے لئے کوئی قربانی نہیں دی، جنہیں بنا بنایا پاکستان مل گیا ، آج یہ ہم مہاجروں کو غدار کہتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطرسب کچھ لٹادیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ فوج نے سازش کے تحت بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو سلوپوائزن دے کر قتل کیا ، جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور انہیں زیارت سے کراچی لایا جارہا تھا تو ان کے لئے ایک خراب ایمبولینس بھیجی گئی جو راستے میں خراب ہوئی اور وہ راستے میں ہی تڑپ تڑپ کر شہید ہوگئے ۔ اس کے بعد قائد اعظم کے دست راست نوابزادہ خان لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں بھرے جلسے میں گولی مار کر شہید کردیا گیا ۔جب جنرل ایوب خان نے1958ء میں ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا تو قائد اعظم کی ہمشیرہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کی آمریت کو چیلنج کیا ۔ اس پر جنرل ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح پر ملک دشمنی اور بھارت کا ایجنٹ ہونے کا شرمناک الزام لگا دیا۔ 1964ء کے صدارتی انتخابات میں عوام کے اصرار پر محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑاتو فوجی حکومت نے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا اور انہیں سازش کر کے ہرا دیا گیا۔ چونکہ مہاجروں نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا اسلئے جنرل ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب کی سربراہی میں جشن فتح کے نام پر کراچی میں جلوس نکالا گیا اور مہاجروں کو سزا دینے کے لئے مہاجر بستیوں پر حملے کرائے گئے اور قتل و غارتگری کی گئی۔ اس کے بعد اسی فوجی حکومت نے ایک سازش کے تحت محترمہ فاطمہ جناح کوان کے گھرمیں قتل کردیا اور اسے طبعی موت قراردیدیا۔ ان کے قتل کو چھپانے کے لئے ان کا پوسٹ مارٹم نہیں کرایا گیا اور ان کا آخری دیدار تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا بانی ذوالفقارعلی بھٹو جس نے اسکندرمرزا کے زمانے سے ہی اسٹیبلشمنٹ کیلئے کام کرنا شروع کردیا تھا اور جو جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ تھا اور جنرل ایوب خان کو ڈیڈی کہتا تھا، اس نے فوج کے ساتھ ملکر 1971ء میں پاکستان کو دولخت کیا۔ 1970ء کے الیکشن میں سابقہ مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ نے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرلی تھی لیکن انہیں اقتدار نہیں دیا گیا بلکہ بھٹو نے فوج کے کہنے پر ’’ ادھرہم ، ادھر تم ‘‘ کا نعرہ لگایا۔ فوج نے بنگالیوں کی جماعت کو اقتدارحوالے کرنے کے بجائے ان کے خلاف فوجی ایکشن کیا، لاکھوں بنگالیوں کا قتل عام کیا، بنگالی خواتین کی عصمت دری کی ۔ جنگ ہوئی اور بالآخر 16، دسمبر1971ء کو سقوط ڈھاکہ ہوا ، پاکستان کی 93 ہزار فوج نے بھارت کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور سابقہ مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ پاکستان ٹوٹنے کے اسباب جاننے کے لئے جسٹس حمودالرحمن کمیشن بنایا گیا لیکن اس کی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور ہتھیار ڈالنے والی فوج کے خلاف ایکشن کرنے کے بجائے انعامات اور اعزازات سے نوازگیا، ہتھیارڈالنے ولے جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کو’’ قوم کا غازی‘‘ کہا گیا۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ 1950 ء میں لیاقت نہرو پیکٹ ہوا تھا جس کے تحت سندھ میں ہندؤوں کی چھوڑی ہوئی متروکہ املاک پرہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کا حق تسلیم کیا گیا تھا لیکن مہاجروں کو یہ املاک نہیں دی گئیں بلکہ سندھی وڈیروں نے ان پر قبضہ کرکے غریب سندھیوں کو غلام بنالیا۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ 1972ء میں ذوالفقار بھٹو کے دورحکومت میں فوج کے کہنے پر لسانی بل پیش کیا گیا ۔ جب اردو بولنے والوں نے اس کے خلاف پرامن احتجاج کیا تو بھٹو حکومت نے ان پر گولیاں چلائیں اور کئی لوگوں کو شہید کردیا جن کی قبریں آج بھی لیاقت آباد کی مسجد شہدا میں موجود ہیں۔ اسی طرح اندرون سندھ میں بھی مہاجروں کا قتل عام کیا گیا جس کی وجہ سے اندرون سندھ سے مہاجروں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔ 1973ء میں بھٹو حکومت نے سندھ میں دیہی اور شہری کوٹہ سسٹم نافذ کیا۔ اس طرح شہری سندھ میں رہنے والے مہاجروں پرسرکاری ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کردیے گئے۔ دیہی علاقے دوسرے صوبوں میں ہیں لیکن دیہی شہری کوٹہ سسٹم کسی اور صوبہ میں پیش نہیں کیا بلکہ صرف سندھ میں پیش کیا گیا۔ اسی کوٹہ سسٹم کی وجہ سے آج سندھ کے سرکاری اداروں میں مہاجر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، سندھ سیکریٹریٹ میں چپراسی سے لیکر چیف سیکریٹری تک سب غیرمہاجر ہیں۔ جب مہاجر اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں اور علیحدہ صوبہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو متعصب سندھی خون کی ندیاں بہانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور مہاجروں کے لئے علیحدہ صوبہ لے کررہیں گے۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ سندھیوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ماضی میں سندھ ، انڈیا کا حصہ تھا۔ مہاجروں کے آباواجداد نے قیام پاکستان کی جدوجہدمیں جانی و مالی قربانیاں دی تھیں تو پاکستان آزاد ہوا اور سندھیوں کو ہندوؤں کی غلامی سے نجات ملی تھی ۔ سندھیوں کو بھی مہاجروں کا احسان مند ہونا چاہیے کہ ان کے آباواجداد کی قربانیوں سے سندھیوں کو آزادی ملی ہے ۔ ہم سندھ میں کسی کا حق مارنے کی بات نہیں کرتے بلکہ متروکہ املاک کی بات کرتے ہیں جو انڈیا سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجروں کا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کئی دہائیوں سے سندھ پر حکومت کرتی چلی آرہی ہے لیکن آج تک غریب سندھیوں کے بنیادی مسائل حل نہیں کئے گئے ، لاڑکانہ سمیت اندرون سندھ کے غریب سندھی عوام آج بھی پینے کے صاف پانی ، علاج و معالجہ اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور غریب سندھی عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جاگیرداروں اور وڈیروں کی جماعت پیپلزپارٹی کے چنگل سے نجات حاصل کرے اور آئندہ الیکشن کا بھر پور بائیکاٹ کرے۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نے سندھی مہاجر یکجہتی اور بھائی چارے کے لئے اپنے گھر عزیزآباد سے سندھیوں کو ایم این اے ، ایم پی اے بنایا، لاڑکانہ کے نوجوان کو سینیٹر بنایا لیکن آج تک کسی قوم پرست نے لاڑکانہ سے کسی مہاجر کو منتخب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سائیں جی ایم سید کے بعد کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوا، جو سامنے آیا فوج نے اسے قتل کرا دیا، فوج نے آج تک سندھ میں وڈیروں کی نجی جیلوں پر چھاپہ نہیں مارا جہاں غریب ہاریوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے، اسی طرح پنجاب، بلوچستان میں بھی جو جاگیردار اور بڑے بڑے سردار ہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی جو غریب کسانوں کو ننگا کرکے ان کے جلوس نکالتے ہیں اور ان پر ظلم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غریب سندھی ہاری جب تک ان ظالم وڈیروں کے خلاف جدوجہد نہیں کریں گے وہ اسی طرح غلام بنے رہیں گے، اسی طرح مظلوم بلوچوں اور پشتونوں کو بھی اس ظلم کے خلاف اٹھنا ہوگا اور اپنے ظالم کو پہچاننا ہوگا۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا بنایا ہوا پاکستان تو 1971 ء میں دولخت ہوگیا، موجود ہ پاکستان فوج کا پاکستان ہے ، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں بلکہ ’’ اسلامی جمہوریہ فوجستان ‘‘ ہے ،یعنی یہ فوج کا ملک ہے، جو ہوگا فوج کی مرضی سے ہوگا، حکومت، پارلیمنٹ،سیاست فوج کی مرضی سے چلے گی، جمہوریت بھی فوج کی ہوگی اور وہ جس کو چاہے گی اسی کی حکومت بنے گی جیسے آج فوج عمران خان کی حکومت لانے کی پوری کوشش کررہی ہے ،فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے لیکن وہ سیاسی شخصیات، سرمایہ داروں، تاجروں، صنعتکاروں اور دیگر لوگوں پر دباؤ ڈال کر انہیں پی ٹی آئی میں شامل کروا رہی ہے ، پی ٹی آئی کی حکومت لانے کیلئے پورے الیکشن کو انجینئر کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی ،ہر جنگ میں شکست کھائی، ہتھیار ڈالے،البتہ سندھ، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں اپنے ہی نہتے ہم وطنوں کے خلاف طاقت استعمال کی اور اپنے ہی شہروں کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ فوج نے غیروں کی خوشنودی کے لئے اردن میں فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا، صومالیہ میں مسلمانوں کا قتل کیا اور آج سعودی عرب کے کہنے پر یمن کے مسلمانوں کا قتل کر رہی ہے ۔ فوج کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے اور اس فوج نے اپنے ظلم اور ظالمانہ اقدامات سے پنجابیوں کو بھی بدنام کیا ہے ۔ فوج کے جرنیل بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ اور افسروں سے ملاقاتیں کریں، ان کے ساتھ شرابیں پی کرانہیں حساس معلومات دیں لیکن وہ پھر بھی ملک کے وفادار ٹھہریں اور الطاف حسین جو غریب ومظلوم عوام کے حقوق اور انصاف کیلئے آواز اٹھائے تو اسے غدار قرار دے دیا گیا، اس کی تحریر و تقریر اور تصویر پر پابندی عائد کردی، اس لئے کہ وہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جرنیل را کے سربراہوں سے ملاقات کے لئے یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ یہ ہمارا کام ہے ، توپھر میں بھی سیاستدان ہوں، ایک سیاسی رہنماکی حیثیت سے میں بھی کسی امریکی، برطانوی، ہندو، یہودی کسی سے بھی مل سکتا ہوں، پھر میرے ملنے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہوناچاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں بھارت کے سیاسی لیڈروں سے کہتا ہوں کہ ہمارے آباؤاجداد صدیوں سے آپ کے ساتھ ہندوستان میں رہتے آئے تھے،لیکن آج ہم پرظلم ہورہا ہے تو بھارت کا کوئی لیڈر مہاجروں پر ہونے والے ظلم پر آواز نہیں اٹھا رہا ہے،ان کے اسی متعصبانہ رویہ کی وجہ سے پاکستان بنا، اس رویہ کو بدلاجائے اور اپنے بھائیوں پر ہونے والے مظالم پر آوازبلند کی جائے ۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ مجھ سے کہا جاتاہے کہ آپ نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ کیوں لگایا؟ انہوں نے کہا کہ مجھ سے مردہ باد کا سوال کرنے والے پہلے مجھے بتائیں کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ کس جرم میں ہمارا قتل عام کیا گیا؟ میرے 22ہزار ساتھیوں کو کس جرم میں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا؟ میرے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین کو کس جرم میں گرفتار کرکے سفاکی سے شہید کیا گیا؟ بزرگ فلاسفر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو کس جرم میں گرفتار کرکے تشدد کرکے قتل کیا گیا؟ہم پر تو اس قدرظلم کیا گیاکہ ہمارے نوجوانوں اور بزرگوں کو شہیدوں کے جنازے تک دفنانے کی اجازت نہیں دی گئی اور خواتین کو نماز جنازہ ادا کرکے جنازوں کو کاندھا دینا پڑا۔ جب نوجوانوں کو بیدردی اور سفاکی سے قتل کیا جائے گا، ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جائیں گی اور انکے گھر والوں کو انصاف نہیں ملے گا تو پھر میں اس بات پر زندہ باد کیسے کہوں؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میرے آباؤاجداد نے بنایا ہے ، میں نے پاکستان کو مردہ باد نہیں کہا بلکہ اس نظام کو مردہ باد کہا تھا جس میں لوگوں پر ظلم کیاجائے ، جہاں مظلوموں کے ساتھ انصاف نہ ہو، قانون کی حکمرانی نہ ہو ۔ میں اپنے لوگوں کے لئے انصاف اور ان کے حقوق مانگ رہاہوں لیکن حقوق مانگنے پر مجھے غدار کہا جارہا ہے ۔ غدار میں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو عوام پر ظلم کررہے ہیں اور حقوق مانگنے پر انہیں ریاستی طاقت سے کچلنے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف، جنرل قمر باجوہ اور دیگر جرنیلوں کے نام لے لے ان سے معافی مانگی، انہیں خطوط لکھے لیکن میری فریادوں کو سننے کے بجائے مجھے غدار کہا جاتا ہے ۔

جناب الطا ف حسین کہا کہ بعض ٹی وی اینکرزاور تجزیہ نگار اکثر کہتے ہیں کہ جن پولیس والوں نے کراچی میں آپریشن کیا انہیں ایم کیوایم والوں نے ماردیا۔ یہ الزام سراسر جھوٹا ہے ، میں نے کبھی نوجوانوں کو کسی کو مارنے کی تعلیم نہیں دی لیکن اگر کسی کو انصاف نہیں ملا اور ان کے کسی گھر کے فرد نے انصاف نہ ملنے پر کسی پولیس والے کو مارا تو الزامات لگانے والوں کویہ سوچنا چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کیا اگر اسے انصاف مل جاتا تو وہ قانون ہاتھ میں کیوں لیتا؟ انہوں نے کہا کہ قرآن میں بھی ہے کہ قتل کا بدلہ قتل، ہاتھ کا بدلہ ہاتھ، کان کا بدلہ کان۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بدنام زمانہ پولیس افسر راؤ انوار نے اپنے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ وہ ایک غریب انسان تھا لیکن ایم کیوایم کے کارکنان فاروق پٹنی اور اس کے ساتھیوں کے پولیس مقابلے میں قتل کے انعام کے طورپر پیپلزپارٹی کی حکومت نے انہیں جو خطیر رقم دی تھی اس رقم سے اس نے اسلام آباد میں گھرخریدا تھا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ فاروق پٹنی اور دیگرتین کارکنان کو بھی راؤ انوار نے ماورائے عدالت قتل کیا تھا۔ فاروق پٹنی اپنے دیگر تین ساتھیوں کے ہمراہ اپنی سسرال گئے تھے تاکہ اپنی حاملہ بیوی کو دیکھ سکیں لیکن مخبری ہوگئی ، نہ صرف ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتارکیا گیا بلکہ فاروق پٹنی کی اہلیہ شازیہ فاروق کو بھی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے گرفتار کرکے اڈیالہ جیل میں قید کردیا اور فاروق پٹنی کی بیٹی کی ولادت اڈیالہ جیل میں ہی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ انصاف مانگنے والے جیلوں میں اذیتیں برداشت کررہے ہیں اور سینکڑوں بے گناہوں کا قاتل راؤ انوار اپنے گھر میں عیش سے رہ رہا ہے اسلئے کہ راؤ انوار نے فوج اور آصف زرداری کے کہنے پرسینکڑوں مہاجروں کا قتل عام کیا ، مرتضیٰ بھٹو کو قتل کیا ۔ اسی کے ذریعے بینظیرکے قتل کے گواہ خالد شہنشاہ اور بلال شیخ کو قتل کرایا گیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ بینظیر بھٹو کا قتل ایک سازش کے تحت کیا گیا، بینظیر کی شہادت کے بعد پیش کی جانے والی وصیت بھی جعلی ہے کیونکہ بینظیر بھٹو ایک پڑھی لکھی اور سمجھدار خاتون تھیں، وہ اگر کوئی وصیت تیار کرتیں تواسے اپنے بچوں یا وکلاء کے حوالے کرتیں لیکن دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے وصیت گھر کی نوکرانی کے پاس رکھوائی تھی ۔ یہ سب پیپلزپارٹی پرقبضہ کرنے کی سازش تھی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار اسپتالوں کے دورے کررہے ہیں، میں انہیں اللہ اور رسول ؐ کا واسطہ دیتاہوں کہ وہ نچلی عدالتوں،جیلوں، تھانوں اور سرکاری حراستی مراکز کا دورہ کریں جہاں برسوں سے لوگ جھوٹے مقدمات اور الزامات میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں اور ان کے اہل خانہ انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مہاجروں پر ظلم ہورہا ہے ، پشتونوں، بلوچوں اور یگرمظلوموں پر ظلم ہورہا ہے ، لہٰذا اب قوم کے نوجوانوں کو اس ظلم کے خلاف آگے آنا ہوگا کیونکہ قوم کا مستقبل اب نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے ۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ عدالت نے میری تحریر و تقریر پرچھ ماہ کیلئے پابندی عائد کی تھی لیکن یہ پابندی آج کے دن تک ختم نہیں کی گئی ہے ، عدالت میں میرا مقدمہ لڑنے والی عاصمہ جہانگیرصاحبہ کو قتل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر فوج کی غلط پالیسیوں کے خلاف کھل کر آواز بلند کرتی تھیں انہیں بھی سازش کے تحت قتل کرایا گیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی کہ عاصمہ جہانگیر کے قتل کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیٹی پاکستان بھیجی جائے ۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ سینکڑوں لاپتہ افراد کی پٹیشنیں عدالتوں میں داخل ہیں مگر عدالت کی جانب سے آج تک نہ تو کسی لاپتہ کارکن کو بازیاب کرایا گیا اور نہ ہی پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کے ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لیا گیا۔ پاکستان کے چوٹی کے فلاسفر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کے قاتل آج تک قانون کی گرفت سے محفوظ ہیں لیکن نسل پرست اینکرپرسنز اور تجزیہ نگاروں کی جانب سے کبھی ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کے ماورائے عدالت قتل کا تذکرہ نہیں کیا جاتا ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ 444 سے زائد افراد کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث راؤ انوار کو وی آئی پی پروٹوکول دیاجاتا ہے اور ہزاروں طلبا و طالبات کو زیورعلم سے آراستہ کرنے والے عظیم پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو گرفتار کر کے انکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی جاتی ہیں ، سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کیلئے ان پر شدید دباؤ ڈالا جاتا ہے اور الطاف حسین کا ساتھ چھوڑنے سے صاف انکارکرنے پر ڈاکٹرحسن ظفرعارف کو تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا جاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے نوجوان طلبا و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی طاقت کا ناجائز کرکے مہاجروں کے انسانی حقوق بری طرح پامال کیے جارہے ہیں ، مہاجروں کو آئینی ، قانونی اور جمہوری حقوق سے محروم کیا جارہا ہے ،وفاپرست کارکنان وعوام پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے، آج بھی فوج، آئی ایس آئی ، رینجرز اور پولیس گھر گھر چھاپے ماررہی ہے لیکن میرا آج بھی عزم ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں مہاجروں سمیت تمام مظلوم قومیتوں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھوں گا اور ظالم و جابر قوتوں کے آگے ہتھیار ہرگز نہیں ڈالوں گا۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ مردم شماری، حلقہ بندیاں اور الیکشن فوج کی نگرانی میں ہورہے ہیں ، مہاجروں کو حق نمائندگی سے محروم رکھنے کیلئے اس مرتبہ بھی مردم شماری میں دھاندلی کی گئی ہے اور ساڑھے تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کی دو کروڑ آبادی چھپا دی گئی ہے، من پسند حلقہ بندیاں کرکے شہریوں کے مینڈیٹ پرڈاکہ ڈالا جارہا ہے لیکن مہاجرقوم کے غدار کمالو گروپ، پی آئی بی اور بہادرآباد ٹولہ مہاجر قوم اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے خلاف اس گھناؤنی سازش میں آئی ایس آئی اور دیگر مہاجر دشمن قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان پر عملاً فوج کی حکومت ہے ، پاکستان کی فوج دنیا کی واحد فوج ہے جو براہ راست کاروبار بھی کرتی ہے ، جس کی اپنی کوکا کولا کمپنی ہے ، گھی ،سیمنٹ، شوگر اور فرٹیلائزر کی فیکٹریاں ہیں، ڈیری کے کاروبار ہیں، عسکری بنک سنا تھا اور اب عسکری گوشت بھی آگیا ہے ۔ پورے ملک میں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ، پورا ملک فوجستان بنا ہوا ہے ، ملک کے اہم ادارے بشمول عدلیہ اور صحافت فوج کے ماتحت ہیں ، اگر یہی حال رہا عوام کو باتھ روم جانے اور پانی پینے بھی فوج کی مرضی سے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ الیکشن کی مانیٹرنگ کیلئے غیر ملکی مبصرین پاکستان نہیں آئیں گے لیکن میں واضح کردوں کہ عالمی مبصرین پاکستان ضرورآئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم کو غدار قرار دیا جاتا ہے ، جنرل مرزا اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کریں تو جائز ہے، الطاف حسین ان سے رقم لینے سے انکار کر دے تو غدار قرار دیا جاتا ہے اور جو ان جرنیلوں سے رقم لے لے وہ محب وطن قراردیاجاتا ہے ۔ جنرل اسد درانی اپنی کتاب میں بتائیں کہ اسامہ بن لادن کا پتہ امریکیوں کو کس نے دیا تو وہ جائز ہے اور الطاف حسین حقائق بیان کرے تو وہ ناجائز قرار دیا جاتا ہے ۔ فوج نے پاکستان دولخت کر دیا وہ محب وطن ہے ، فوج کی جانب سے سیاسی جماعتیں بنانے بگاڑنے کا عمل جائز ہے ،غداروں کے ٹولے بنانا جائز ہے ، فوج کے افسران تاجروں اور صنعتکاروں کو فون کرکے دھمکیاں دیکر عمران خان اور کمالو کو رقوم دلوائے تو وہ جائز ہے اور ایم کیوایم چندہ جمع کرے تو وہ ناجائز ہے۔ ڈی ایچ اے یا کراچی کے دیگر علاقوں کی قیمتی زمینیں کوڑیوں کے مول فروخت کی جارہی ہے ، اسی طرح پانی کے ٹینکر اور ہیروئن کے کاروبارمیں بھی رینجرز اور فوج ملوث ہے ۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ الیکشن آرہے ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ فوج کی جانب سے ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو پر تالا ڈال دیا گیا ہے ، خورشید بیگم سیکریٹریٹ اور ایم پی اے ہاسٹل بند ہے ، کراچی اور سندھ کے مختلف شہروں میں ایم کیوایم کے مسمار کیے جاچکے ہیں ، خواتین تک کو یادگار شہدائے حق جانے اور فاتحہ خوانی کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ، یوم شہدائے حق منانے والی خواتین پر رینجرزکے اہلکار بندوقیں تان لیتے ہیں ، ان پر آنسوگیس ، لاٹھی چارج اور فائرنگ کرتے ہیں اور کسی کو بھی یادگارشہدائے حق اور شہداء قبرستان جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کرکے مہاجروں کے بنیادی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے ۔ایم کیو ایم اور الطاف حسین کا نام لینا جرم بنا دیا گیا ہے ، وفاپرست کارکنان و عوام پرآئی ایس آئی ، فوج ، رینجرز اور پولیس نے عرصہ حیات تنگ کردیا ہے، ایسے حالات میں ایم کیوایم انتخابات میں کس طرح حصہ لے سکتی ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مجھے وفاپرست ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں ، نوجوانوں بالخصوص Millennials طلبا و طالبات سے امید ہے کہ وہ اپنے نظریاتی بھائی اور باپ کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے ، 1993ء کی طرح آئندہ الیکشن کا بھی مکمل بائیکاٹ کریں گے، 25، جولائی کو اپنے گھروں میں اس طرح رہیں گے کہ سندھ کے پولنگ اسٹیشنوں میں قبرستان کا سناٹا چھاجائے گا اور شہیدوں کے لہو سے غداری کرنے والے ضمیر فروشوں کو اپنے علاقوں میں نہیں آنے دیں گے ۔جناب الطاف حسین نے حیدرآباد کے وفاپرست عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے غداروں نے مہاجروں کے مینڈیٹ کا سودا کیا اور سندھ اسمبلی میں اپنے نظریاتی باپ الطاف حسین کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت کا مطالبہ کیا ، اب الیکشن کے موقع پر یہ ایک مرتبہ پھر آپ کی گلیوں میں ووٹوں کی بھیک مانگنے آئیں تو آپ ان قوم فروشوں کو اپنی گلیوں میں قدم نہ رکھنے دیں اور مہاجرقوم اورشہیدوں کی قربانیوں کا سودا کرنے والے غداران قوم کا سوشل بائیکاٹ کریں ۔انہوں نے کہا کہ میں اورمیرے وفاپرست ساتھی شدید ترین مالی مشکلات کے باوجود شہیدوں ، اسیروں اور لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کی بھر پور مدد کررہے ہیں اور جب تک ہماری زندگی ہے ہم ان کی مدد کرتے رہیں گے ۔