پاکستان میں آباد دیگر لسانی اکائیوں کی طرح مہاجر بھی ایک حقیقت ہیں اور علیحدہ لسانی و ثقافتی شناخت رکھتے ہیں ۔مصطفےٰ عزیزآبادی

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان میں آباد دیگر نسلی و لسانی و ثقافتی اکائیاں ایک حقیقت ہیں اسی طرح مہاجر بھی ایک حقیقت ہیں، مہاجر بھی ایک علیحدہ لسانی و ثقافتی شناخت رکھتے ہیں ، اس سے انکار کرنا نظام قدرت سے انکار کرنا ہے ۔ انہوں نے یہ بات ایم کیوایم  یوکے مانچسٹر یونٹ کے زیر اہتمام منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ افطار ڈنرسے ایم کیوایم کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد سلیم،ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزر ہاشم اعظم، جوائنٹ آرگنائزر سہیل خانزادہ ، ایم کیوایم مانچسٹر کے انچارج محمد حفیظ نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب کی نظام کے فرائض سید جواد احمد نے انجام دیے۔ افطار ڈنر میں ایم کیوایم یوکے کے فنانس سیکریٹری آصف سعید بھی موجود تھے۔ مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہا کہ پاکستان میں پنجابی ، پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی ، بلتستانی، ہزارے وال ،پوٹھوہاری ہر قومیت کی بات کی جاتی ہے ، سرکاری سطح پر ان لسانی و نسلی اکائیوں کی ثقافت پیش کر کے ان کی شناخت کرائی جاتی ہے لیکن جب مہاجر کہتے ہیں کہ وہ ان سب لسانی اکائیوں سے الگ ہیں، ان کی ثقافت الگ ہے اور وہ ہجرت کی مناسبت سے خود کو مہاجر کہتے ہیں تو مہاجروں سے نفرت اور تعصب رکھنے والے عناصر مہاجر قومیت سے انکار کرتے ہیں اور مہاجروں کو کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو مہاجر نہ کہیں ، پاکستانی کہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پنجابی ، پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی ، بلتستانی، ہزارے وال ،پوٹھوہاری دیگر قومیتوں کے لوگ اپنی اپنی لسانی وثقافتی شناخت کا اظہار کرتے ہوئے بھی پاکستانی ہوسکتے ہیں تو مہاجر اپنی لسانی وثقافتی شناخت کی بات کرتے ہوئے اورخود کو مہاجر کہتے ہوئے پاکستانی کیوں نہیں ہوسکتے؟ انہوں نے کہا کہ انسانوں کو قوموں،قبیلوں اور گروہوں میں اللہ تعالیٰ نے تقسیم کیا ہے تاکہ انسانوں کی شناخت ہوسکے ، اس شناخت سے انکار کرنا نظام قدرت سے انکار کرنا ہے۔ مصطفےٰ عزیزآبادی نے قیام پاکستان کے بعد سے مختلف ادوار میں مہاجروں کے ساتھ زندگی کے دیگرشعبوں میں ہونے والی ناانصافیوں، زیادتیوں اور حق تلفیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں مہاجروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا گیا ہے اور حقوق کا مطالبہ کرنے پر ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں اور ان کا قتل عام کیا گیا ہے۔ انہوں نے بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں حیدرآباد کے پکا قلعہ میں 26 اور27مئی 1990ء کو کئے جانے والے آپریشن اور مہاجر نوجوانوں، بزرگوں اور خواتین کے قتل عام کے سانحہ کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہر دورمیں مہاجروں کا قتل عام کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹوکے دورمیں کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا جو آج تک رائج ہے ، آج بھی ملک پر پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور مہاجروں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے آج بھی بند ہیں،مہاجروں نے سندھ میں علیحدہ صوبہ کا مطالبہ کیا ہے تو پیپلزپارٹی کے متعصب عناصر مہاجروں پر لعنت بھیج رہے ہیں اور مہاجروں کو گالیاں دے رہے ہیں، دوسری جانب مہاجروں کی واحد آواز ایم کیوایم کو ریاستی طاقت سے کچلنے کے لئے آپریشن کیا جارہا ہے، مہاجروں کے قائد الطاف حسین کی تقریر پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، مہاجرنوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے، انہیں جیلوں میں ڈالا جارہا ہے اور لاپتہ کیا جارہا ہے، پاکستان میں مہاجروں کو انصاف دینے والا کوئی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے عناصر قائد تحریک الطاف حسین کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں جو سراسر زیادتی اور حقائق کو مسخ کرنا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مہاجروں پر مظالم تو قیام پاکستان کے بعد سے ہو رہے ہیں قائد تحریک الطا ف حسین سے پہلے بھی 60، اور 70ء کی دہائی میں مہاجروں کا قتل عام کیا اور ان کی حق تلفیاں کی جاتی رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مہاجروں کے دشمن عناصر شروع ہی سے مہاجروں کو کچلنے کے درپے ہیں۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین نے مہاجرقوم کے لئے قربانیاں دیں، ان کے بھائی اور بھتیجے کو شہید کردیا گیا، پورا خاندان اجڑ گیا اور آج بھی انکے خاندان کے افراد سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجروں کے دشمنوں کے ذہنوں پر قائد تحریک الطاف حسین کا نام طاری ہے ،مخالفین بھی انہیں گالیاں دے کر ان کے نام کا کھارہے ہیں۔ انہوں نے مہاجروں پرلعنت بھیجنے پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان توڑنے والوں اور کوٹہ سسٹم نافذ کرنے والے اور مہاجروں کا قتل عام کرنے والوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزر ہاشم اعظم نے مہاجروں کے دشمن عناصر اب چاہے کیساہی ظلم کرلیں اور کیسے ہی ہتھکنڈے کیوں نہ اختیار کرلیں، علیحدہ صوبہ کا قیام مہاجروں کا اولین مطالبہ ہے اور اب ہم اس مطالبہ سے دستبردارنہیں ہوں گے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مہاجروں کے بارے میں دیے گئے بیان کی بھی شدید مذمت کی ۔