پاکستان میں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہونے جارہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ اپنے پسندیدہ لوگوں کو کامیاب کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ڈاکٹر ندیم احسان

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر ندیم احسان نے کہا ہے کہ پاکستان میں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہونے جارہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ اپنے پسندیدہ لوگوں کو کامیاب کرانے کے لئے منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایم کیوایم یوکے ایسٹ لندن چیپٹر کے زیرا ہتمام منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ افطار پارٹی سے ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزر ہاشم اعظم، یوکے سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن فیصل خانزادہ اور ایسٹ لندن کے یونٹ انچارج غفران حمید نے بھی خطاب کیا۔ افطار ڈنر میں رابطہ کمیٹی کے رکن منظوراحمد، یوکے کے جوائنٹ آرگنائزر سہیل خانزادہ، فائنانس سیکریٹری آصف سعید ،سی او سی ممبر محسن ، یوکے یونٹ کے ذمہ داروں، کارکنوں اور ہمدردوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ ڈاکٹر ندیم احسان نے کہا کہ ہر دور میں ایم کیوایم اور مہاجر عوام کی آواز کو کچلنے کے لئے ریاستی آپریشن کیا گیا، اب ایک بار پھر ریاستی طاقت کے ذریعے ایم کیوایم پر غیراعلانیہ پابندی عائد کردی گئی ہے ،ہمیں ہمارے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے ،ہمیں اپنے شہیدوں کی یادگار پرفاتحہ پڑھنے تک کی اجازت نہیں ہے ، مہاجر عوام کی سیاسی آزادی کو طاقت کے ذریعے چھین لیا گیا، ایسی صورت میں ہم الیکشن میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر ندیم احسان نے کہا کہ مہاجرقوم آج اپنی بقاء کے لئے انتہائی نازک مقام پر پہنچ گئی ہے ۔مہاجر نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے، پولیس رینجرز انہیں گرفتار کرکے لاپتہ کیا جارہا ہے، ہزاروں کارکنان اس وقت بھی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج قوم کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ اپنی بقاء کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرے۔ ڈاکٹر ندیم احسان نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں، حقیقت یہ ہے کہ پورا ملک اس وقت فوج کنٹرو ل میں ہے اور ملک خصوصاً سندھ  کے شہری علاقوں میں غیراعلانیہ مارشل لاء نافذ ہے ۔جہاں صرف اسٹیبلشمنٹ کے تشکیل کردہ سیاسی گروہوں کو کام کرنے ، جلسے جلوس کرنے کی اجازت ہے ۔ میڈیا پر اتنی پابندیاں لگادی گئی ہیں جومارشل لاء دور میں بھی نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سویلین کو تو پارلیمنٹ ، عدالت اور نیب کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں عسکری حکام قوم کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں پر تو ہر طرح کے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں ، حتیٰ کہ اگر وہ فوج کے غلط اقدامات پر کوئی تنقید کریں تو ان کو غدار تک قرار دیدیا جاتا ہے لیکن فوج کے غلط اقدامات پر کوئی جواب طلبی نہیں کی جاتی ۔ ڈاکٹر ندیم احسان نے کہا کہ نوازشریف کے ایک انٹرویو پر انہیں غدار قرار دے دیا گیا لیکن سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی نے انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کے ساتھ ملکرکتاب لکھی مگران کیلئے کسی نے غداری کا فتویٰ نہیں دیا۔ اگر یہی کام کسی سیاستدان نے کیا ہوتا تو اس پر غداری کا مقدمہ قائم کردیا گیا ہوتا اور اسے لاپتہ کردیا گیا ہوتا۔ ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزرہاشم اعظم نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے ماضی میں بھی مہاجروں کی آواز کو طاقت سے دبانے کے لئے طرح طرح کے مظالم ڈھائے ہیں اور آج بھی ڈھائے جارہے ہیں لیکن ایم کیوایم کوختم نہیں کیا جاسکا۔ جوطاقتیں آج بھی یہ سمجھ رہی ہیں کہ وہ مہاجر عوام کو کچل دیں گی وہ غلط فہمی کا شکارہیں، چاہے کچھ بھی ہو،ہم اپنے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔