پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری قائم ہے۔ الطا ف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں 70 برسوں سے جمہوریت قائم نہیں ہوسکی ، پاکستان میں ہمیشہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی رہی ہے اور آج بھی پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ دراصل Stratocracy رائج ہے یعنی دراصل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہی اجارہ داری ہے ،پورے ملک میں ایک جبر کا راج قائم ہے ، مہاجر،پشتون اور بلوچ اور دیگر مظلوم عوام اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں تو انہیں غدار قرار دیا جارہا ہے ، حقوق مانگنے والے غدار نہیں ہیں بلکہ حقوق غصب کرنے والے غدار ہیں۔ ہم پرامن جدوجہد کے ذریعے ظلم سے آزادی اور اپنے حقوق چاہتے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو ایم کیوایم کے 34ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے زیراہتمام جوہانسبرگ میں منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ اجتماع جوہانسبرگ میں واقع لال قلعہ ہال میں منعقد کیا گیا تھا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی جن میں ایم کیوایم کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہمدرد نوجوانوں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی ۔ اجتماع میں ساؤافریقہ کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ ڈپٹی جنرل سیکریٹری سولی ماپیلا ( Solly Mapaila) ، مقامی انسانی حقوق کی انجمنوں کے نمائندوں ، وکلاء ، صحافیوں اور دیگرعمائدین نے بھی شرکت کی ۔ اجتماع سے سولی ماپیلا، ایم کیوایم کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن محمد سلیم ، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے عادل غفار ایڈوکیٹ،ایم کیوایم ساؤتھ افریقہ کے آرگنائزر راشد مینائی نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے اجتماع کے شرکاء کو ایم کیوایم کے 34 ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کی اور معزز مہمانوں سمیت اجتماع کے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں تالا لگا دیا لیکن قدرت نے ساؤتھ افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں مہاجروں کیلئے لال قلعہ ہال کھول دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ساؤتھ افریقہ کے ساتھیوں نے جوہانسبرگ میں شاندار کار ریلی کا انعقاد کیا جس پر ایک ایک ساتھیوں کو میں اپنا سلام تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہ ریلی دیکھنے والے کہہ رہے ہیں کہ ساؤتھ افریقہ کے ساتھیوں نے جوہانسبرگ کو کراچی اور حیدرآباد بنا دیا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے ساؤتھ افریقہ کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ ڈپٹی جنرل سیکریٹری Mr. Solly Mapaila کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں گزشتہ 27 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہوں ، میں نے تمام ترریاستی مظالم کا سامنا کیا، میرے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین جن کا ایم کیوایم یا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا انہیں گرفتارکرکے تین روز تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سفاکی سے قتل کردیا گیا ، اسی طرح میرے 22 ہزار ساتھیوں کو بھی ماورائے عدالت قتل کیا گیا لیکن میں نے باطل قوتوں کے آگے اپنا سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیوایم کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کردی گئی ہے ، میری تحریر، تقریر اور تصویر کسی پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا پر شائع نہیں ہوسکتی، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی نے دوسال سے میرے گھر پر تالا ڈالا ہوا ہے، ایم کیوایم کے دفاتر مسمار کردیے گئے ہیں ، پاکستان میں مہاجروں کو فرزند زمین تسلیم نہیں کیا جاتا ، پاکستان میں مہاجروں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اورمہاجروں کو توہین آمیز القابات سے پکارا جاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں گزشتہ 40 برسو ں سے مہاجروں سمیت ملک بھرکے مظلوم عوام کے جائز حقوق کی جدوجہد کر رہا ہوں ، اس جدوجہد کی پاداش میں مجھے تین مرتبہ جیل میں قید کیا گیا، اپنی جدوجہد ترک کرنے کے عوض ہر قسم کی مراعات کی پیشکش کی گئی لیکن میں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کی ہر پیشکش کو مسترد کیا ۔ میرے وفادار ساتھی جانتے ہیں کہ میں نے ظالم قوتوں کے آگے کبھی سرینڈر نہیں کیا اور میں آخری سانس تک حق پرستی کی جدوجہد کرتا رہوں گا۔ جناب الطاف حسین نے اجتماع میں موجود ساؤتھ افریقہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سے درخواست کی کہ وہ بے سہارا مہاجروں کی پرامن جدوجہد کا ساتھ دیں اورمظلوم مہاجروں کی مدد کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں 70 برسوں سے جمہوریت قائم نہیں ہوسکی ہے ، پاکستان میں ہمیشہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی رہی ہے اور آج بھی پاکستان میں جمہوری نظام نہیں بلکہ دراصل Stratocracy رائج ہے یعنی دراصل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہی اجارہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حقیقت پسندی اور عملیت پسندی کا فکر و فلسفہ دیا لیکن میری یہ فلاسفی پاکستان کے حکمرانوں کو پسند نہیں آئی کیونکہ میں ملک میں سچی جمہوریت کا قیام چاہتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جو غریب و متوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کررہی ہے ۔ ایم کیو ایم پروگریسیو، لبرل اورجمہوریت پسند جماعت ہے جوملک پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اورسرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ہے ،وہ ملک میں صحیح معنوں میں سچی جمہوریت قائم کرنا چاہتی ہے ۔ ایم کیوایم ، مہاجروں، بلوچوں ، پشتونوں،سندھیوں، پنجابیوں، کشمیریوں، سرائیکیوں، ہزار وال سمیت تمام قومیتوں بشمول مذہبی اقلیتوں کیلئے برابری کی بنیاد پر حقوق چاہتی ہے اور سمجھتی ہے کہ جو بھی پاکستانی ہے سب کے ساتھ بلا امتیاز رنگ و نسل ، زبان ،قوم، مسلک، عقیدہ اور مذہب یکساں سلوک کیا جائے اور کسی کو کمتر نہ سمجھا جائے ، ایم کیوایم خواتین کے لئے بھی مساوی حقوق چاہتی ہے اورانہیں بھی زندگی کے ہرشعبہ میں مردوں کے برابرحقوق دلانا چاہتی ہے ، ایم کیوایم تمام غریبوں کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں ان کے گھروں تک پہنچانا چاہتی ہے ،ایم کیوایم ملک سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں سچی جمہوریت عوام کی منتخب پارلیمنٹ چاہتے ہیں لیکن پاکستان میں ہمیشہ براہ راست ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی رہی ہے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ، سپریم کورٹ کو اپنی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے ۔ ہم ملک میں Stratocracy نہیں بلکہ سچی جمہوریت چاہتے ہیں اور یہی ہمارا سب سے بڑا جرم ہے اوراسی جرم کی پاداش میں ہمیں ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے.
جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیوایم اور مہاجروں کو ختم کرنے کیلئے 1992ء میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا ، ہم نے ہرقسم کی قربانی دی، تمام تر ریاستی مظالم کے باوجود میرے پرعزم ساتھی آج بھی ثابت قدم ہیں ، میرے بھانجے اور بھتیجے، رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفی عزیزآبادی کے بھائی سمیت ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنان آج تک لاپتہ ہیں ۔ 10 ہزار سے زائد کارکنان آج بھی جیلوں میں قید ہیں اور وحشیانہ تشدد کا سامنا کر رہے ہیں ۔ 13، جنوری 2018ء کو پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو پیراملٹری رینجرز نے گرفتار کرکے کراچی کے مضافاتی علاقہ ریڑھی گوٹھ میں تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا اور کرائم سین ضائع کردیئے اور عدلیہ انصاف فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ، ایسی صورتحال میں ہم پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کے اہل خانہ کو کس طرح انصاف دلائیں ؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں مہاجروں کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے اور مہاجروں کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، لہٰذا اقوام متحدہ اور جمہوری دنیا کو مظلوم مہاجروں کی مدد کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم ظلم سے آزادی چاہتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ آزادی صرف نعروں سے حاصل نہیں ہوتی ، اسکے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور قربانیاں دیناپڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن لوگ ہیں اور پرامن طریقے سے اپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں۔
جناب الطا ف حسین نے ساؤتھ افریقہ کے عظیم انقلابی رہنما نیلسن مینڈیلا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیلسن مینڈیلا نے اپنی قوم کو سفید فام نسل پرست حکومت کے ظلم و جبر اور نسل پرستانہ سلوک سے آزادی دلانے کے لئے جدوجہد کی ، اس کی پاداش میں 27سال قید کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ، میں اس عظیم رہنما کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔ جناب الطا ف حسین نے اجتماع میں موجود ساؤتھ افریقن کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکریٹری جنرل سولی ماپیلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مہاجرقوم کوجس قسم کے ظلم و جبر کا سامنا ہے اس سے نجات اور انصاف کے حصول کیلئے ہمیں آپ کے تعاون کی اشد ضرورت ہے، ہمیں اس جدید نسل پرستانہ لہر کی روک تھام کو ملکر یقینی بنانا ہوگا۔
جناب الطا ف حسین نے کہا کہ 13، جنوری کے دن ہی سفاک پولیس افسر راؤ انوار جوکہ بے گناہ شہریوں کے ماورائے عدالت قتل میں بدنام شہرت رکھتا ہے ، نے نقیب اللہ محسود کو ماورائے عدالت قتل کیا، سپریم کورٹ کی جانب سے اس سفاک قاتل پولیس افسر کو مراعات دی جارہی ہیں ، محض آٹھ برسوں میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے 444 شہریوں کوجعلی پولیس مقابلوں میں قتل کرنے والے راؤ انوار کوپہلے ملیر کینٹ میں رکھا گیا پھر گھرپر رہنے کی بھی اجازت دی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ریاستی ظلم و بربریت اور ناانصافیوں کے باعث پشتون قوم میں بیداری پیدا ہو رہی ہے لیکن افسوس کہ ان کی آواز کو سننے اور ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے انہیں غدار قرار دیا جارہا ہے، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پشتون قوم کو دھمکیاں د ی جارہی ہیں اورحقوق کا مطالبہ کرنے والے پشتونوں کا میڈیا بلیک آؤٹ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مظلوم عوام کے حقوق کے مطالبے کو غداری سے تعبیر کرنا سراسر غلط ہے ۔ حقوق مانگنے والے غدار نہیں ہیں بلکہ حقوق غصب کرنے والے غدار ہیں، حقوق مانگنے والوں پرظلم کرنے والے کرپٹ جرنیل ، رینجرز، ایف سی اور پولیس افسران غدارہیں۔
جناب الطاف حسین نے شام پر امریکہ، برطانیہ اورفرانس کی جانب سے ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے سے روس کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے بھی ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے، یہ حملہ تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ،اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو کروڑوں انسانوں کی جان جاسکتی ہے۔ انہوں نے ساؤتھ افریقہ میں مقیم ایم کیوایم کے تمام ذمہ داران اور کارکنان پر زوردیا کہ وہ موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں،مہاجرقوم اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں اور قوم کی بقاء اورتحریک کے کاذ کے لئے ایک نئے عزم و حوصلے اور توانائی کے ساتھ میدان عمل میں آئیں۔انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ اپنے شہیدوں اورلاپتہ ساتھیوں اوراسیروں کی قربانیوں کونہ بھولیں،لاپتہ ساتھیوں کے اہل خانہ کے دکھ درد اور کرب کا اندازہ کریں کہ ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی۔ انہوں نے حاظرین سے کہا کہ وہ اپنے شہیدوں اور اسیروں کے اہل خانہ اورقوم کے مجبوروپریشان حال لوگوں کی مدد کیلئے تحریک کے اکاؤنٹ میں عطیات جمع کرائیں ۔ جناب الطا ف حسین نے یوم تاسیس کے اجتماع کے انعقاد پر ساؤتھ افریقہ یونٹ کو خراج تحسین پیش کیا اور اس کے شاندار انتظامات کرنے والے ساتھیوں کو شاباش پیش کی ۔