پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے من پسند سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کیلئے پولیٹیکل انجینئرنگ کی جارہی ہے ،الطاف حسین

ایم کیوایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ نوازشریف نااہل اور آصف زرداری ،عمران خان الیکشن لڑنے کیلئے اہل ہوں اور جو الطاف حسین کا ساتھ دے اس کو پکڑ کر لاپتہ کردیا جائے یا جھوٹے مقدمات میں جیل میں سڑا دیا جائے ،اس طرح پاکستان نہیں چل سکتا، یہ ظلم ہے اور حضرت علیؓ کا قول ہے کہ حکومتیں کفر سے چل سکتی ہیں لیکن ظلم سے نہیں چل سکتیں۔ پاکستان میں الیکشن کے نام پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے من پسند سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کیلئے پولیٹیکل انجینئرنگ کی جارہی ہے ، یہ عوامی نہیں فوجی الیکشن ہیں، یہ موقع ہے کہ پنجاب کے نوجوان اٹھیں ،میدان عمل میں آجائیں، اس فوجی الیکشن کا بائیکاٹ کریں اور پاکستان کو جاگیرداروں، وڈیروں اور جرنیلوں کے چنگل سے آزاد کرا کر 98 فیصد غریب مزدوروں، کسانوں، ہاریوں ، محنت کشوں اور متوسط طبقہ کی حکمرانی قائم کریں اور پاکستان کو بچالیں، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام ان کے پیچھے ہوں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو لندن میں ایم کیوایم یوکے کے زیر اہتمام اے پی ایم ایس او کے 40 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر،بریڈفورڈ، شیفیلڈ اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ جناب الطا ف حسین کا یہ خطاب سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع سے دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ اس موقع پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹرندیم احسان، اراکین رابطہ کمیٹی اور ایم کیوایم برطانیہ، امریکہ ، کینیڈا اور ساؤتھ افریقہ کے آرگنائزرز نے بھی خطاب کیا ۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم ایم کیوایم کے کارکنان و ہمدردوں کو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے 40 ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں کا قبضہ تھا اور انگریزو ں کی غلامی سے آزادی کیلئے جدوجہد کا سلسلہ جاری تھا ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برٹش اور فرنچ ایمپائرز اس قابل نہیں رہیں کہ وہ اپنی اپنی سلطنت برقرار رکھ سکیں اور ان کے لئے اپنی کالونیاں چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا تو انگریزوں نے ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت اپنی کالونیوں کو اس طرح چھوڑنا گوارا کرلیا کہ اس خطہ پر انگریزوں کا اثر و رسوخ  قائم رہے ۔ اس مقصد کیلئے ایسے لوگ تلاش کیے گئے جو برطانوی سلطنت کے نسل درنسل غلام اور وفادار رہے ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے 20 لاکھوں جانوں کا نذرانہ دیا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان ان علاقوں میں قائم کیا گیا جہاں کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں کوئی قربانی نہیں دی۔ تقسیم ہند سے قبل بھی ایسٹ اور ویسٹ پنجاب کے عوام پنجابی زبان بولتے تھے، ان کی ثقافت ایک ہی تھی لیکن ایسٹ پنجاب کے لوگ حریت پسند تھے، انہوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر 1857ء کی جنگ آزادی میں حصہ لیا تھا جبکہ مغربی پنجاب کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا اورحریت پسندوں کی مخبریاں کرکے تحریک آزادی کو نقصان پہنچایا اور انعام کے طور پر القابات اور جاگیریں حاصل کیں جوکہ آج پنجاب کے بڑے بڑے خاندانوں میں شمار کیے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ان خاندانوں کے سربراہ انگریزوں کے غلام تھے اور ان کے کتے نہلاتے تھے ، انگریزوں کے حکم پر ا نہوں نے خانہ کعبہ پر گولیاں چلائیں، مسلم ممالک میں جاکر اپنے کلمہ گو مسلمانوں کا قتل عام کیا، فلسطین میں یہودیوں سے زیادہ فلسطینی عوام کے قتل عام میں یہی خاندان ملوث ہیں اور آج بھی پاکستانی فوج سعودی عرب کی خاطر یمن میں وہاں کے مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے ۔ قیام پاکستان کی جدوجہد میں محب وطن بنگالیوں کا بہت بڑا کردار تھا لیکن پاکستانی فوج نے اپنے ہم وطن اور کلمہ گو بنگالی عوام کا قتل عام کیا، قیام پاکستان کی جدوجہد میں مہاجروں کے اجداد نے عظیم قربانیاں دیں لیکن پنجاب کے ٹوانہ، دولتانہ اور دیگر خاندانوں سے تعلق رکھنے والی پاکستانی فوج مہاجروں کا قتل عام کررہی ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام ملک کی مجموعی آبادی کا 56 فیصد تھے لیکن انہیں ان کے حقوق نہیں دیے گئے ، انہوں نے 1970ء کے الیکشن میں کامیابی حاصل کی لیکن انہیں اقتدارحوالے نہیں کیا گیا، بنگالی جو ملک میں اکثریت میں تھے انہیں غدار قرار دے کر ان کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا بالآخر اکثریتی آبادی علیحدہ ہوگئی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ قائد اعظم کا بنایا ہوا پاکستان ٹوٹ گیا،موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان نہیں بلکہ فوجستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستان عالمی ادارے’’ فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی گرے لسٹ میں آگیا ہے ، اگراسٹیبلشمنٹ نے اپنی پالیسیاں نہیں بدلیں تو پاکستان بلیک لسٹ میں آجائے گا ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج میاں نواز شریف کا احتساب ہورہا ہے، ان کی زوجہ بیگم کلثوم نوازلندن میں اسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں لیکن ان کی بیماری کا بھی مذاق اڑایا جارہا ہے اور طرح طرح کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں جو افسوسناک ہے ۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ بیگم کلثوم نواز کو صحت کاملہ عطا کرے ، ان کی مشکلات کودورکرے ۔انہوں نے پاکستان کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی بیگم کلثوم نواز کی صحتیابی کیلئے دعا کریں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ آج نوازشریف اور اس کی پارٹی کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے،میں نوازشریف کی حمایت نہیں کر رہا ہوں، ان کے ہر دور میں ایم کیوایم کے خلاف آپریشن ہوا لیکن میں ہر اس شخص کیلئے بولتا ہوں جس کے ساتھ زیادتی ہورہی ہو ۔میرا سوال یہ ہے کہ اگر نوازشریف لٹیرے ہیں تو کیا زرداری فرشتہ ہے ؟ کیا وہ آسمان سے اترا ہے؟ کیا عمران خان فر شتہ ہے ؟ کیا وہ آسمان سے اترا ہے؟ عمران خان کا سینکڑوں ایکڑ کا گھرہے لیکن پھربھی اسے غریب سمجھا جاتا ہے، عمران خان سیتا وائٹ سے ایک ناجائز بچی ٹائرن جیٹ کا باپ ہے اور اس نے آج تک اس کا اعتراف نہیں کیا ہے لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں کہ عمران خان صادق اور امین ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب صورتحال یہ ہو کہ نوازشریف نااہل جبکہ آصف زرداری اور عمران خان الیکشن لڑنے کیلئے اہل ہوں، الطاف حسین کے گھر پر تالہ ہو، اس کے دفاتر سیل ہوں، الطاف حسین کی تقریر پر پابندی ہو اور جو الطاف حسین کا ساتھ دے اس کو پکڑ کر لاپتہ کردیا جائے یا جھوٹے مقدمات میں جیل میں سڑا دیا جائے،، تو اس طرح پاکستان نہیں چل سکتا، یہ ظلم ہے اور حضرت علیؓ کا قول ہے کہ حکومتیں کفر سے چل سکتی ہیں لیکن ظلم سے نہیں چل سکتیں۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار اسپتالوں کا دورہ کرتے ہیں، ہرجگہ جاتے ہیں لیکن وہ بلوچستان نہیں گئے جہاں آئی ایس آئی اور دیگر سیکوریٹی فورسز نے سینکڑوں بلوچ نوجوانوں کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے، وہ قبائلی علاقوں میں نہیں گئے جہاں ضرب عضب اور ردالفساد کے نام پرکئے جانے والے آپریشن کے دوران ہزاروں قبائلی نوجوانوں کو غائب کر دیا گیا، جسٹس ثاقب نثار مہاجر علاقوں میں نہیں گئے اور لاپتہ مہاجر نوجوانوں کے خاندانوں سے نہیں ملے۔ جسٹس ثاقب نثار سندھ کی سیشن عدالت گئے تو وہاں بھری عدالت میں جج کی توہین کی اور اس کو موبائل فون اٹھا کر پھینک دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جسٹس ثاقب نثارکو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ ججوں کی بے عزتی کریں؟ پولیس افسروں اور سرکاری افسروں کو عدالتوں میں بلا کر زلیل کریں اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ انصاف کے لئے آئیں تو ان کو زلیل کریں؟
جناب الطاف حسین نے کہا کہ ڈیموکریسی کا مطلب عوام کی حکمرانی ہے لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی ہے جس کا مطلب عوام کی نہیں بلکہ فوج کی حکمرانی ہے، آج سب کچھ فوج کے کنٹرول میں ہے، آج بھی جو الیکشن ہورہے ہیں وہ جنرل الیکشن نہیں بلکہ جرنیلوں کا الیکشن ہے ، یہ الیکشن فوج کرا رہی ہے ، فوج ہی کی نگرانی میں نتائج تیارکئے جائیں گے، من پسند سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کیلئے پولیٹیکل انجینئرنگ کی جارہی ہے ، اسی لئے ہم نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں سندھیوں، بلوچوں، پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سرائیکیوں، کشمیریوں، ہزارے وال اور تمام قومیتوں کے عوام خصوصاً نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ان الیکشن کا بائیکاٹ کریں۔جناب الطاف حسین نے پنجاب کے نوجوانوں کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے نوجوان اٹھیں، یہ موقع ہے کہ وہ جاگیرداروں اور وڈیروں کے بجائے غریب اور مڈل کلاس عوام اور کارکنوں کی حکمرانی قائم کریں اور پاکستان کو بچالیں،سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے عوام ان کے پیچھے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں ملک بھرکے غریب و متوسط طبقہ کے عوام خصوصاً نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایک مرتبہ پھر ووٹ لینے کیلئے آنے والے امیدواروں سے پوچھیں کہ انہوں نے گزشتہ پانچ سال میں ان کیلئے کیا کیا؟وہ پانچ سال تک کہاں غائب تھے ؟
جناب الطاف حسین نے کہا کہ قیام پاکستان کو 70 برس بیت چکے ہیں لیکن پاکستان کی تاریخ میں آج کے دن تک الطاف حسین کی طرح غریب متوسط طبقہ سے جنم لینے اور نظریہ دینے والے لیڈر کی مثال نہیں ملتی، عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر قوم کو دھوکہ دیا ، اس کی بیویاں تبدیل ہوتی رہیں لیکن پاکستان تبدیل نہیں ہوا اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے باعث عمران خان بھی غریب و متوسط طبقہ کے عوام کے بجائے انتخابات میں Electables کو پارٹی ٹکٹ دے رہا ہے ، عمران خان نے غریب و متوسط طبقہ کی قیادت پر مبنی الطاف حسین کا نعرہ چرایا لیکن اس کا غریب و متوسط طبقہ سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ الطاف حسین کا پاکستان میں 120 گز کا گھر ہے جوکہ میری والدہ مرحومہ کے نام ہے اس کے علاوہ پاکستان بھر میں الطاف حسین کی کوئی جائیداد نہیں ہے اور ان حقائق کی بنیاد پر پاکستان کا کوئی بھی سیاسی لیڈرالطاف حسین کے برابر کھڑا نہیں ہوسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں پنجابی عوام کے نہیں بلکہ پنجاب کی مراعات یافتہ اشرافیہ کے خلاف ہوں ، پنجاب کے عوام کی اکثریت آج بھی ان بڑے بڑے زمینداروں ، جاگیرداروں اورسرمایہ داروں کے مزارعے، کسان اور ہاری ہیں، بھٹہ مزدور ہیں، غریب پنجابی عوام کو فوجی جرنیلوں نے پنجابی کی بنیاد پر بے وقوف اور اپنا ہم نوا بنا رکھا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غریب پنجابی مزدور آج بھی پینے کے صاف پانی کیلئے اسی طرح ترس رہا ہے جس طرح بلوچستان ، خیبرپختونخوا اور کراچی کا غریب محنت کش مزدور ترس رہا ہے جبکہ مراعات یافتہ امیر طبقہ کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتا ہو اس کی نسل درنسل پاکستان کے 98 فیصد غریب و متوسط طبقہ کے عوام پر حکومت کررہی ہے، موروثی سیاست کررہی ہے ، غریب کارکنان و عوام ان موروثی سیاستدانوں کیلئے دریاں بچھاتے ہیں، بینرز ، پوسٹرز لگاتے ہیں اور تالیاں بجاتے ہیں لیکن کسی بھی سیاسی جماعت میں غریب کارکنوں کو الیکشن لڑنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک بھرکے نوجوانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ان کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ وہ جاگیرداروں ،وڈیروں کیلئے نسل درنسل قربانیاں دیتے رہیں ، ان کے بینر پوسٹر لگاتے رہیں، دریاں بچھاتے رہیں اور جب الیکشن کا وقت آئے تو قربانیاں دینے والے کارکنوں کوٹکٹ دینے کے بجائے جاگیرداروں اور وڈیروں کو ٹکٹ دیے جائیں اور کارکنوں کو سرے سے نظرانداز کر دیا جائے؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نے آج تک کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا، میں اور میرے خاندان کا کوئی فرد سینیٹر، ایم این اے، ایم پی اے ، وزیر، مشیر، میئر ، ڈپٹی میئر یا کونسلر نہیں بنا بلکہ میں نے تحریک کے کارکنوں کو منتخب نمائندہ بنایا اور اگر الطاف حسین جیسا کوئی اور لیڈر پاکستان میں ہے تو اسے سامنے لاؤ ورنہ اس حقیقت کو تسلیم کرو۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نہ کل پنجابی عوام کا مخالف تھا اور نہ آج ہوں اور نہ ہوسکتا ہوں، میری جدوجہد کا مقصد ہی غریب عوام کو زندگی کے ہرشعبہ میں انصاف فراہم کرنا ہے لیکن ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور موروثی سیاست کے خاتمے کیلئے پنجاب کے غریب عوام بالخصوص نوجوان طلبا و طالبات اور Millennial کو میدان عمل میں آنا ہوگا، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام بالخصوص نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور سپریم کورٹ کی جانب سے سیاستدانوں کے مالی اثاثوں پر تحقیقات کی جا رہی ہے کیا ان اداروں نے فوجی جرنیلوں کا احتساب کیا؟ پاکستان مردہ باد کہنا بڑا جرم ہے یا پاکستان توڑنا بڑا جرم ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے دکھ اور صدمے کی کیفیت میں پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا تھا کیونکہ میرے ساتھیوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جارہا تھا، انہیں گرفتار کر کے لاپتہ کیا جارہا تھا ، ان کی تشددزدہ لاشیں سڑکوں اور ویرانوں میں پھینکی جارہی تھیں لیکن پھر میں نے دو مرتبہ تحریری معافی بھی مانگی اس کے باوجود ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے 72 سالہ بزرگ استاد پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف کو سفاکی سے شہید کر دیا۔جناب الطاف حسین نے پنجاب کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا یہ موقع ہے ، میدان عمل میں آجاؤ اور پاکستان کو بچالو۔ جاگیرداروں ، وڈیروں اور جرنیلوں کے چنگل سے پاکستان کو آزاد کرا کر 98 فیصد غریب مزدوروں، کسانوں، ہاریوں ، محنت کشوں اور متوسط طبقہ کی حکمرانی قائم کردو تو پاکستان بچ جائے گا۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں الیکشن کابائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے تھا اور پارلیمانی سیاست کا حصہ بننا چاہیے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا جب 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن ہوا تو کیا اس وقت ہم پارلیمانی سیاست کا حصہ نہیں تھے؟ کیا جب 1998ء میں سندھ میں گورنر راج نافذ کر کے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا، کیا اس وقت ایم کیوایم پارلیمان کا حصہ نہیں تھی؟ جب 2013ء میں ایک مرتبہ پھر ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا کیا اس وقت ایم کیوایم پارلیمنٹ میں نہیں تھی؟ کیا یہ پارلیمنٹ ہمارے خلاف آپریشن کو رکوا سکی؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے باوجود بھی ہمیں الیکشن میں حصہ لینا چاہیے تھا، انہوں نے سوال کیا کہ جب ہم اپنا دفترنہیں کھول سکتے، کوئی سیاسی سرگرمی نہیں کرسکتے، جلسہ جلوس تو دور کی بات ہے ، ہم شہیدوں کی یادگار اور قبروں پر فاتحہ خوانی کے لئے نہیں جاسکتے تو پھر ہم اس فضا میں کس طرح الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ آج جو ضمیر فروش لوگ ایم کیوایم کا نام استعمال کر کے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں انہوں نے فوج کے بوٹ چاٹے ہیں جبکہ الطاف حسین فوج کے بوٹ نہیں چاٹے گا اور نہ ہی اس کے چاہنے والے فوج کے بوٹ چاٹیں گے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جو ضمیرفروش لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے 22 اگست کو ایم کیوایم کو بچا لیا انہوں نے ایم کیوایم کو کتنا نقصان پہنچایا ہے وہ مہاجر عوام نے خود دیکھ لیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ضمیرفروش اپنی ذات میں اپنی گلی کے کونسلر تک نہیں بن سکتے تھے، انہیں عوام نے الطاف حسین کے نام پرووٹ دیے اور انہیں اسمبلیوں میں پہنچایا، انہوں نے کل بھی الطاف حسین کا نام لے کر کھایا اور آج الطاف حسین کو گالی دے کر کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر اور تمام حق پرست عوام ان ضمیرفروشوں کا بائیکاٹ کریں اور اپنے اتحاد کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں موجود تحریک کے کارکنان و عوام کو اے پی ایم ایس او کے 40 ویں یوم تاسیس کی مبارکباد پیش کی اور کارکنوں کو ان کی ثابت قدمی پر خراج تحسین پیش کیا۔