پاکستان میں لسانی اکائیوں اور مذہبی اقلیتوں کو کشمیر کی طرح انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہاجروں، بلوچوں، پشتونوں اور دیگر لسانی اکائیوں اور مذہبی اقلیتوں کو مقبوضہ کشمیرکی طرح انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے، یورپین پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز بیلجئم کے دارالحکومت برسلزمیں جموں کشمیر انٹرنیشنل پیپلزالائنس کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس کانفرنس میں مختلف سیاسی شخصیات، رائٹرز، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ کانفرنس سے اپنے خطاب میں پاکستان کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان تمام نسلی ولسانی ،ثقافتی اور مذہبی اکائیوں کا ہے لیکن پاکستان میں اپنے حقوق مانگنا جرم بنا دیا گیا ہے، میں نے مہاجروں کے حقوق کے لئے تحریک شروع کی تو ہمیں ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا گیا، ہمارا قتل عام کیا گیا، 19جون 1992ء کو ہمارے خلاف ریاستی آپریشن شروع کردیا گیا جو آج تک جاری ہے ،اس آپریشن کے نتیجے میں ہمارے کارکنوں سمیت 22 ہزار مہاجروں کو شہید کر دیا گیا،سینکڑوں کارکن لاپتہ اور ہزاروں مختلف جیلوں میں قید ہیں، ان ریاستی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے اور مظالم ڈھانے والی قوتوں کو بے نقاب کرنے پر میری تقریروں پر پابندی عائد کردی گئی اور میری جماعت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جو بھی ریاستی مظالم ، دہشت گردی اورمذہبی انتہاپسندی کے بارے میں ریاست کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے اس کو دباؤ اور جبر کے ذریعے خاموش کیا جارہا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ مہاجروں کی طرح بلوچ اور پشتون بھی اسی قسم کے ریاستی مظالم کا شکار ہیں اور اپنے حقوق سے محروم ہیں، پاکستان میں آباد عیسائی، ہندو، احمدی ، اہل تشیع اور دیگر مذہبی اقلیتیں بھی اسی طرح ریاستی جبر اور دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ یورپی یونین نے پاکستان کو بہت سی مراعات دے رکھی ہیں جس میں پاکستان سے جہاں بہت سے اقدامات کرنے کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ کرے اور پاکستان نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس برقرار رکھنے کے لئے یورپی یونین کو یقین دلایا تھا لیکن پاکستان میں لسانی ومذہبی اکائیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کوچاہیے کہ وہ پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اس پر پاکستان سے جواب طلب کرے۔ جناب الطاف حسین نے یورپین پارلیمنٹ کے ممبران اور کانفرنس کے شرکاء سے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سچی جمہوریت،آزادی اظہار،عقائد،سوچ و فکر اور جلسے جلوس کی آزادی اور محروم عوام کے حقوق کے لئے متحد ہوجائیں۔ جناب الطاف حسین نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کا زکر کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرکے عوام قیام پاکستان کے بعدسے ہی ناانصافیوں کا شکار ہیں، اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر کئی بار قراردادیں منظور کیں لیکن ان پر عمل نہ ہوسکا اور کشمیر کے عوام آج بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرکے عوام آزادی مانگ رہے ہیں اور وہ انڈیا کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، پاکستان کے ساتھ رہناچاہتے ہیں یا ایک مکمل طور پرآزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر رہنا چاہتے ہیں اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف کشمیری عوام کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں مذہبی انتہا پسندی کو داخل کرکے اسے غلط رنگ دیا جارہا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں مہاجروں سمیت تمام مظلوم قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتا رہوں گا اور خاموش نہیں رہوں گا۔ انہوں نے کشمیری رہنما سردار شوکت علی کشمیری کو انسانی حقوق کے لئے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔