کراچی اورحیدرآباد میں منظم سازش کے تحت آئی ایس آئی کی سرپرستی میں فسادات کرائے گئے،الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں ایک منظم سازشی منصوبے کے تحت آئی ایس آئی کی سرپرستی میں لسانی فسادات کرائے جاتے رہے ہیں ،ان فسادات میں مہاجروں کا قتل عام کیا گیا لیکن اب تک کسی ایک بھی واقعہ کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی گئی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو کارکنوں اور ہمدردوں سے اپنے ایک تفصیلی اور اہم خطاب میں کیا۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے 1986ء کے سانحہ علی گڑھ، سانحہ حیدرآباد، پکا قلعہ آپریشن ، دیگر مہاجر بستیوں پر حملوں اور مختلف ادوار میں مہاجروں کے قتل عام کے واقعات کی تفصیلات بیان کیں۔ جناب الطاف حسین نے تاریخی حوالے بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے 31، اکتوبر اور یکم نومبر1986ء کی درمیانی شب حیدرآباد سے کراچی آتے ہوئے گھگھر پھاٹک پر دوسری مرتبہ گرفتار کیا گیا تھا کیونکہ میں سانحہ سہراب گوٹھ 31 ، اکتوبر1986ء کے بعد کراچی اور حیدرآباد میں لسانی فسادات کی سازش کو ناکام بناناچاہتا تھا لیکن مجھے گرفتار کرکے جیل میں قید کردیا گیا ،میں نے جیل سے اے این پی کے رہنماء خان عبدالولی خان کو خط لکھا جس کی گواہی اسفند یار ولی دے سکتے ہیں، ہماری مشترکہ کوششوں سے پٹھان مہاجر فسادات کی سازش ناکام ہوئی لیکن مظلوم عوام کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ آئی ایس آئی کی تیار کردہ سازش کے تحت 12، دسمبر1986ء کو فوج کی جانب سے سہراب گوٹھ میں منشیات فروشوں کے خلاف نام نہاد آپریشن کیا جاتا ہے اور یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ یہ آپریشن ایم کیوایم کے مطالبے پر کیا جارہا ہے ، اس آپریشن کے دوران فوج کو سہراب گوٹھ سے اسلحہ اور منشیات کچھ نہیں ملا پھر اس کا بدلہ لینے کے نام پر ڈرگ مافیا کے مسلح دہشت گردوں کے ذریعے قصبہ کالونی اور علیگڑھ کالونی پرحملہ کرایا گیا۔ یہ حملہ پہاڑیوں پر قائم پختون آباد یوں سے کیا گیا،حملہ کے دوران خواتین کی عصمت دری کی ، گھروں کو نذرآتش کیا اور معصوم بچوں سمیت سینکڑوں مہاجروں کو شہید و زخمی کردیا۔ اس حملہ کے بعد آئی ایس آئی نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ مہاجروں پر پٹھانوں نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں کراچی میں ہنگامے پھوٹ پھڑے اور لوگوں نے اشتعال میں گاڑیوں کو نذرآتش کیا۔اسی طرح 1987ء میں ناظم آبادکے علاقے جلال آباد، ڈرگ کالونی ، ملیر، شاہ فیصل کالونی ،گرین ٹاؤن ، گولڈن ٹاؤن، ماڈل کالونی، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی ، نارتھ کراچی اور شہر کی دیگر مہاجر بستیوں پر بھی منشیات فروشوں کے ذریعہ مسلح حملے کرائے گئے جن میں درجنوں مہاجروں کو شہید و زخمی کیا گیا اور گھروں کو آگ لگادی گئی تاکہ مہاجر پٹھان فسادات کی آگ بھڑکائی جاسکے ۔ یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پختونوں نے مہاجر پٹھان فسادات کی سازش کو ناکام بنانے کیلئے آپس میں امن کمیٹیاں قائم کیں اور لسانی فسادات کے خاتمے کیلئے عملی جدوجہد کا آغاز کردیا تو آئی ایس آئی نے کراچی کا امن تباہ کرنے کیلئے پنجابی پختون اتحاد (پی پی آئی) بنا کر مہاجر بستیوں پر حملے کرانے شروع کردیئے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اس طرح کراچی اور حیدرآباد میں ’’لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کی تحت‘‘ لسانی فسادات کرائے گئے جبکہ حقیقتاً مہاجروں اور پختونوں کا آپس میں کوئی جھگڑا نہ کل تھا اور نہ ہی آج ہے ۔ پختون اور مہاجر نہ ایک دوسرے کے دشمن تھے، نہ ہیں اور انشاء اللہ نہ کبھی ہوں گے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ سازشی عناصر یہ بھی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ مہاجروں نے سندھ میں علیحدہ صوبہ بنایا تو پختونوں کا اقامہ یا ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا جبکہ یہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن بات ہے ۔سندھ کے شہری علاقوں پر مشتمل علیحدہ صوبہ قائم ہوا تواس صوبہ میں رہنے والے پختون، سندھی، بلوچ، پنجابی، سرائیکی ،کشمیری، ہزاروال اور دیگر قومیتوں کے لوگوں کو بھی مہاجروں کی طرح برابری کی بنیاد پرحقوق میسرہوں گے ۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ اسی طرح 30 ستمبر1988ء کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام کیا گیا، 10 گاڑیوں میں سوار جدید اسلحہ سے لیس جرائم پیشہ عناصر نے آدھے گھنٹے تک حیدرآباد اور لطیف آباد میں بے گناہ مہاجروں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں اور تین سو سے زائد مہاجروں کو سفاکی سے قتل کردیا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دور میں سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد رونما ہوا۔ 26/27 مئی1990ء کو جب شہر میں کرفیو نافذ تھا اور جگہ جگہ چوکیاں قائم تھیں ،اس وقت اندرون سندھ کی جیلوں سے ڈاکوؤں کو شہر میں لا کر انہیں پولیس کی وردیاں پہنائی گئیں ، پکا قلعہ کا محاصرہ کرکے لوٹ مار اور قتل وغارتگری کرائی گئی ۔ جب مہاجرخواتین ہاتھوں اور سروں پر قرآن مجید اٹھا کر ریاستی مظالم بند کرنے کی دہائیاں دینے کیلئے باہر نکلیں تو سفاک اہلکاروں نے ان پرگولیاں برسائیں اور سینکڑوں خواتین شہید وزخمی ہوئیں۔

جناب الطاف حسین نے کراچی میں منظم منصوبہ بندی کے تحت کرائے جانے والے مہاجروں کے قتل کے ایک اور واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1990ء میں، میں اپنے آپریشن کے سلسلے میں لندن گیا تھا، 22، اگست 1990ء کو جب میں لندن سے وطن واپس لوٹ رہا تھا تو کراچی میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے ، ایک موجودہ اینکرپرسن جو اس وقت پیپلزپارٹی کی طلبا تنظیم کا سرگرم رکن تھا اس کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کے دہشت گردوں نے ایم کیوایم کے استقبالیہ کیمپوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 30 سے زائد کارکنان شہید اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے ۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب تمام تر فسادات اور قتل وغارتگری اور مظالم کے باوجود ایم کیوایم کو ختم نہیں کیا جاسکا اور ایم کیوایم کی عوامی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو آئی ایس آئی نے ایم کیوایم کو اندر سے نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی اور ایم کیوایم کی صفوں سے لوگوں کوخریدا، ان جرائم پیشہ عناصر کو اسلحہ، تربیت اور پیسہ فراہم کیا ۔ 19، جون 1992ء کو ان حقیقی دہشت گردوں کو فوجی ٹرکوں میں بٹھا کر کراچی لایا گیا اور ایم کیوایم کے کارکنوں کے قتل اور دفاتر پر قبضوں کا کھلا لائسنس دیا گیا۔ جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں نے ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا ۔حقیقی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ بدنام زمانہ پولیس افسران نے بھی ایم کیوایم کے کارکنوں کو گرفتارکرکے ماورائے عدالت قتل کیا اور سینکڑوں کارکنان لاپتہ کردیئے۔ ۔جناب الطاف حسین نے نوجوان طلبا و طالبات بالخصوص Millennial’s کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اندازہ لگائیں کہ کس کس طرح بانیان پاکستان کی اولادوں پر مظالم ڈھائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ27، دسمبر2007ء کو بے نظیربھٹو کو راولپنڈی میں قتل کردیا جاتا ہے لیکن بے نظیرکے قتل کا بدلہ لینے کیلئے پیپلزپارٹی کے مسلح جیالے کراچی اور حیدرآبادمیں حملہ آور ہوتے ہیں،27 سے لیکر 29دسمبر تک تینوں دن کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی، مہاجروں کی املاک، فیکٹریاں، گاڑیاں اور ایم کیوایم کے دفاترنذرآتش کیے گئے ، فیکٹریوں اور ملوں کو لوٹ کرنذرآتش کیا گیا،سینکڑوں افراد کو فیکٹریوں میں زندہ جلادیاگیا، فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی بے حرمتی کی گئی، تین دنوں میں 1200 گاڑیاں نذرآتش کی گئیں جبکہ ہزاروں گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا،پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج ہوئے اور بعض کو گرفتار بھی کیا گیا لیکن جب قائم علی شاہ سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے نہ صرف گرفتار شدگان کو رہا کرایا بلکہ تمام مقدمات بھی ختم کرادیئے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ نسل پرست پنجابی اینکرپرسنز اور تجزیہ نگارہمیشہ سانحہ 12 ، مئی اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان المناک واقعات میں ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی گھناؤنی کوشش کرتے ہیں ، ایم کیوایم کو بدنام کرنے کیلئے اسکے خلاف بہتان تراشیاں کرتے رہتے ہیں اور مہاجروں کے خلاف خوب بکواس کرتے ہیں لیکن کسی بھی اینکر پرسن یا سیاسی ودفاعی تجزیہ نگارکی جانب سے مہاجروں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم اور سانحات کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ گزشتہ روز ہی ایک متعصب اینکرپرسن نے کہا کہ کراچی میں آپریشن میں حصہ لینے والے 250 پولیس افسران کے قتل کا تذکرہ کیا ہے لیکن اس اینکرپرسن کی جانب سے 27 دسمبر2007ء کو بے نظیربھٹو کے قتل کے بعد درجنوں فیکٹریوں کو نذرآتش کرکے محنت کشوں کو زندہ جلادیاگیا اس ظلم کا تذکرہ کبھی نہیں کیاجاتا۔ انہوں نے کہا کہ جو اینکرز فوج کے ایجنٹ ہیں وہ سیاہ کو سفید کہتے ہیں اورجو سچ کہتے ہیں ان اینکرز، صحافیوں، بلاگرز کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا، میں ایسے حق پرستوں کوسلام پیش کرتا ہوں۔