ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ہیں ،ہمارے پاس الیکشن کے بائیکاٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔سفیان یوسف

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن سفیان یوسف نے کہا ہے کہ ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ہیں لہٰذا ہمارے پاس الیکشن کے بائیکاٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات ایم کیوایم یوکے برمنگھم یونٹ کے زیراہتمام دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں برمنگھم یونٹ کے کارکنوں اور ہمدردوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ تقریب سے ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزر ہاشم اعظم اور برمنگھم یونٹ کے انچارج اشرف بیگ نے بھی خطاب کیا۔ سفیان یوسف نے کہا کہ پاکستان میں پنجابی، پختون، سندھی ، بلوچی ، سرائیکی ، کشمیرے ،ہزارے وال اور کئی لسانی اکائیاں رہتی ہیں، ہر موقع پر تمام لسانی اکائیوں کی بات کی جاتی ہے اور ان لسانی اکائیوں کے اظہار پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن جب مہاجروں کی بات کی جاتی ہے تو متعصب عناصر اس پر شدید اعتراضات کرنے لگتے ہیں اور وہ مہاجروں کو خود کو پاکستانی بننے اور کہلانے کا درس دینے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر ایک حقیقت ہیں اور مہاجروں کے وجود سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ ہم مہاجر ہیں، ہمیں مہاجر ہونے پر فخرہے اور ہم محروم و مظلوم مہاجروں کے حقوق لے کر رہیں گے۔ سفیان یوسف نے کہا کہ مہاجروں کو سندھ میں آباد کر کے کسی نے مہاجروں پر کوئی احسان نہیں کیا، ہمارے آباؤاجداد نے پاکستان بنانے کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی اور 1950ء کے لیاقت نہروپیکٹ کے تحت سندھ سے انڈیا واپس جانے والے ہندووں کی متروکہ املاک ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کو ملنی تھیں لیکن مہاجروں کو یہ متروکہ املاک نہیں دی گئیں بلکہ جن مہاجروں کو اندرون سندھ جو املاک ملیں وہ بھی لسانی فساد کے نام پر مہاجروں سے چھین لی گئیں اور مہاجروں کو اندرون سندھ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا گیا۔ سفیان یوسف نے کہا کہ ہم نے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائی تو ہم پر ریاستی مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کردیے گئے، ہمیں آج بھی آپریشن کے نام پر طاقت سے کچلا جارہا ہے، ہم پر ہمارے ہی شہر کی زمین تنگ کردی گئی ہے ،قائد تحریک الطاف حسین کی تقریر پر پابندی عائد ہے، ہمارے مرکز نائن زیرو کو سیل کردیا گیا، دفاتر کو مسمار کردیا گیا اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، ہمیں ہمارے شہداء کی یادگار پر فاتحہ تک پڑھنے کی اجازت نہیں ہے، ایسی صورتحال میں ہمارے پاس الیکشن کے بائیکاٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 25جولائی کو ہونے والے الیکشن کے بائیکاٹ کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔ ایم کیوایم یوکے کے آرگنائزر ہاشم اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں آج سچ بولنا اور ظلم کو ظلم کہنا سب سے بڑا جرم بن گیا ہے ،ملک میں صرف اسی کو آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی اجازت ہے جو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنٹ بننے کے لئے تیار ہو یا اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لئے کام کرتاہو اور جو حقوق کے حصول کے لئے آواز اٹھاتا ہے اور ریاستی مظالم کو چیلنج کرتا ہے اس کو غدار قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کو تو کھلے عام سرگرمیاں انجام دینے اور سیاسی جلسے جلوس تک کرنے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہے لیکن وہ جماعت جو آئین و قانون پر یقین رکھتی ہے اس کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے ۔ انہوں نے کہا جب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ملک مستحکم نہیں ہوسکتا۔ حقوق کی آواز کو طاقت سے کچلنے کی روش ترک کرنی ہوگی۔