ہم یا تو طاقتور اور خود مختار صوبہ لیں گے یا آزاد مہاجر ر یاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی ، الطاف حسین

ایم کیوایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں انصاف کا دوہرا معیار ہے جو ناقابل قبول ہے ، ہم یا تو طاقتور اور خود مختار صوبہ لیں گے یا آزاد مہاجر ریاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی، بلوچستان کو بھی آزاد کرنا ہوگا، ہم آزاد بلوچستان کے حامی ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو لندن میں اپنی 65ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ ’’ یوم تجدید وفا ‘‘ کے اجتماع سے اپنے فکرانگیز خطاب میں کیا۔ اجتماع لندن کے علاقے ایجویئر میں واقع وی آئی پی لاؤنج میں منعقد کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے خلاف جاری ریاستی آپریشن، بلوچستان کی سنگین صورتحال اور پاکستان کے مجموعی حالات کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا ۔ جناب الطاف حسین کا یہ خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں براہ راست نشر بھی کیا گیا جسے سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں افراد نے دیکھا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جو گھر آپ اپنے خون پسینے اور محنت سے بنائیں اور اس پر کوئی دوسرا بندوق کی نوک پر قبضہ کرلے تو ایسے گھر سے کیا فائدہ کہ گھرآپ بنائیں اور اس کے مزے وہ اڑائیں جنہوں نے اس کیلئے خون کا ایک قطرہ تک نہ دیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حقوق مانگنے سے نہیں ملتے بلکہ حقوق چھیننے ہوں گے اور اس کیلئے طاقت استعمال کرنی ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہمیں یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ میں نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ کیوں لگایا، جو لوگ یہ طعنہ دیتے ہیں اگر ان کے بچوں کو گرفتار کرکے تشدد کرنے کے بعد اس کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جائیں، بہنوں بیٹیوں کی بے حرمتی کی جائے، انہیں بھی بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے حراست میں لے لیا جائے تو آپ کیا کہیں گے؟ہماری بہنیں،بیٹیاں یادگار شہدا پر فاتحہ پڑھنے کے لئے عزیزآباد گئیں تو رینجرز اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، ان پر گنیں تان لیں، صرف نوجوانوں کو ہی گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ عورتوں اور بچوں تک کو گرفتارکیا گیا۔ اس موقع پر ان واقعات کی تصویریں اور وڈیوبھی بڑی اسکرین پر دکھائی گئیں۔ جنہیں دیکھ کر ماحول سوگوار ہوگیا۔ جناب الطاف حسین نے سوال کیا کہ کیا ہمارے ملک کے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے اس قسم کا سلوک کیا جانا چاہیے؟یہ سب ظلم وستم دیکھ کر ہم کس طرح پاکستان زندہ باد کہیں؟ ہم نے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان بنایا لیکن ہمیں برابرکا پاکستانی سمجھنے اور ہمارے جائز حقوق دینے کے بجائے ہر دورمیں ہمیں ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا گیا، ہمارے 22 ہزار نوجوانوں ماورائے عدالت قتل کردیے گئے ۔ ایم کیوایم کے 72سالہ بزرگ رہنما اور پاکستان کے ممتاز فلاسفر اور استاد پروفیسرڈاکٹرحسن ظفرعارف،جنہوں نے لاکھوں طلبہ کو پڑھایا فوج، رینجرز نے 13جنوری 2018ء کو انہیں حراست میں لیا اور رات بھر تشدد کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور پولیس شہریوں کی حفاظت کے لئے ہوتی ہے یاان کے قتل عام کے لئے ؟اگر فوج معصوم وبے گناہ مہاجروں اور بلوچوں کا قتل عام کرنے لگے تو اس کو زندہ باد کہا جائے گا یا وہ مردہ باد کہلانے کے مستحق ہوگی؟جناب الطاف حسین نے کہا کہ کل شہبازشریف کو نیب عدالت میں پیش کیا گیا تو بڑی تعداد میں لوگ پولیس کی بکتر بند پر چڑھ گئے، پولیس نے ان پر نہ کوئی لاٹھی چارج کیا، نہ کوئی گولی چلی،نہ کوئی گرفتاری ہوئی،مسلم لیگ ن کے مردوں اور عورتوں کو احتجاج کا پورا حق دیا گیا لیکن ہمارے نوجوان اور خواتین کراچی میں اے آر وائی نیوز کے دفترپر احتجاج کرنے گئیں کہ خدارا جھوٹی خبریں نشر نہ کریں تو ان پر پولیس اور رینجرز نے فائرنگ کی، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، ان کی فائرنگ سے ایم کیوایم کا ایک جواں سال کارکن شہید ہوگیا۔ آخر یہ دوہرا معیار کیوں ؟تحریک لبیک نے احتجاج اور دھرنے کی آڑ میں اسلام آباد، لاہور اور پنجاب کے مختلف شہروں میں پولیس ، عام شہریوں اور میڈیا پر حملے کئے، پولیس اسٹیشنوں اور دیگر سرکاری و نجی املاک اور میڈیا کی گاڑیوں کوآگ لگائی اور دہشت گردی کا بازار گرم کیا لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے ان کے گرفتار شدگان کو نہ صرف فی الفور رہا کیا بلکہ رینجرز کے ڈی جی نے ان میں پیسے تقسیم کئے لیکن ہماری مائیں بہنیں، بیٹیاں اور نوجوان یادگار شہدا پر فاتحہ پڑھنے کے لئے گئے تو ان پر گنیں تانی گئیں، گولیاں چلائی گئیں اور انہیں گرفتار کیا گیا، آخر یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟ تحریک لبیک کے خادم رضوی نے چیف جسٹس کا نام لے کرکھلی کھلی گالیاں دیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ دوسروں کو بات بات پر توہین عدالت کے نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ، یہ دہرا معیار کیوں ہے؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں انصاف کا دوہرا معیار ہمیں ناقابل قبول ہے ،ہم انصاف مانگ رہے ہیں تو ہماری بات سننے کے بجائے ہمیں ریاستی طاقت سے کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یا تو طاقتور اور خود مختار صوبہ لیں گے یا آزاد مہاجرر یاست، اس سے کم پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے بلوچستان میں بلوچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج غریب بلوچوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے، بلوچ نوجوانوں،حتیٰ کہ عورتوں تک کو پکڑ کر لاپتہ کیا جارہا ہے، غریب بلوچوں کی زمینوں پرقبضہ کیا جارہا ہے ، مہاجروں کی طرح بلوچوں کے بھی قبرستان بھر دیے گئے ہیں، فوج کو یہ ظلم بند کرنا ہوگا اور بلوچستان کو آزاد کرنا ہوگا،ہم آزاد بلوچستان کے حامی ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نوازشریف اور شہبازشریف کیلئے سڑکوں پر نکلے،اگر اسی طرح آپ مہاجروں اور بلوچوں کے قتل عام اور ان پر ریاستی مظالم کے خلاف باہرنہ نکلے تو آپ بھی مہاجروں اور بلوچوں کے قتل عام میں برابرکے شریک تصورکئے جائیں گے۔

جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نے پاکستان مردہ باد، پاکستان کو نہیں بلکہ ملک میں جاری اس دہرے نظام کو مردہ باد کہا تھا جس میں وڈیرے جاگیردار اور بااثر لوگوں کے لئے الگ قانون ہو اور غریبوں کے لئے الگ قانون ہو۔میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ ووڈیرانہ نظام ختم ہو، بے لگام سرمایہ دارانہ نظام ختم ہو، ہرکسی کو بلاامتیاز رنگ ونسل وزبان و مذہب یکساں حقوق حاصل ہوں اور سب کو برابر کا پاکستانی سمجھا جائے ۔ ہر پاکستانی خواہ وہ مسلمان ہو،ہندو ہو، عیسائی ہو، سکھ ہو،پارسی ہو،خواہ اس کا تعلق کسی بھی فقہ، مسلک یا مذہب سے ہو، سب کو پاکستان میں رہنے کا حاصل ہو، اسی طرح احمدیوں کو بھی پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان میں رہنے سہنے اور جینے کا پورا حق ملنا چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ یہ دوہرا معیار ہے کہ نواز شریف تو چور ہو لیکن عمران خان جس کے بارے میں لاس اینجلس عدالت کا فیصلہ موجود ہے کہ وہ ناجائز بچی کا باپ ہے ،اس کو صادق اور امین قرار دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین و قانون، عدالت حکومت سب کچھ فوج کی جیب میں ہوتا ہے ، وہ جسے چاہیں پاک صاف قرار دیدیں اور جسے چاہیں نااہل اور غدار قرار دیدیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر سیاسی شخصیات،اینکرز اور تجزیہ نگار کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹا لہٰذا انہیں پاکستان واپس لایاجائے اورغداری کے مقدمے میں سزادی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت تویہ ہے کہ جب 12 اکتوبر1999ء کو نوازشریف حکومت کا تختہ الٹاگیاتواس وقت پرویزمشرف تو طیارے میں تھے، حکومت کا تختہ تو دیگر جرنیلوں نے الٹا تھا لیکن اس اقدام میں شریک کسی بھی دوسرے جنرل کا نام نہیں لیا جاتا ،اسلئے کہ پرویز مشرف مہاجر ہیں، یہ دوہرا معیار اور تعصب نہیں تو کیا ہے؟ ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر قدیر جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا انہیں تنقید کیا گیا اور انہیں دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا اور سارا کریڈٹ ایک پنجابی ثمرمند کو دیدیا گیا ، یہ تعصب نہیں ہے تو کیا ہے؟جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم نے پاکستان بنانے کیلئے 20 لاکھوں کی قربانی دی، پاکستان کی خاطر اپنے گھربار، جائیدادیں، بزرگوں کی یادگاریں، سب کچھ چھوڑ دیا لیکن پاکستان میں ہم ہی اپنے حقوق سے محروم ہیں اور ہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جارہا ہے، یہ ظلم ہے ، ناانصافی ہے اور جب تک الطاف حسین اور اس کا ایک ایک سچا ساتھی زندہ ہے،ظلم و ناانصافی کے خلاف ہماری تحریک جاری رہے گی۔ جناب الطاف حسین نے حاظرین سے اپیل کی کہ وہ تحریک کو جاری رکھنے اور قوم کے مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لئے حسب توفیق عطیات ضروردیں۔