یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، عوام ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، اس الیکشن میں فوج اپنی مرضی سے لوگوں کو کامیاب کروائے گی تاکہ اپنی مرضی کی حکومت لائی جاسکے لہٰذا عوام ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور قبائلی علاقوں کے عوام سمیت کشمیری، سرائیکی، ہزاروال ،گلگتی اور بلتستانی عوام بھی جاگیرداروں اوروڈیرو ں کو ہرگز ووٹ نہ دیں اور اپنے حقوق کے لئے خود آگے آئیں اور یاد رکھیں کہ ان کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے بلکہ انہیں اپنے جائز حقوق کیلئے خود میدان عمل میں آنا ہوگا اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام ، جاگیرداروں اور وڈیروں کی موروثی سیاست اورظلم و جبرکے نظام سے آزادی کے لئے عملی جدوجہد کرنی ہوگی۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعے کارکنوں اور عوام سے اپنے تفصیلی خطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین کا یہ خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں براہ راست نشر کیا گیا جسے لاکھوں افراد نے دیکھا۔ اپنے اس خطاب میں انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ، حالیہ الیکشن اور موجودہ سیاسی صورتحال کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں طلبہ کو مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے ، نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور اس کے لئے علامہ اقبال کے 1930ء میں دیے گئے خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیا جاتا ہے جبکہ تاریخی حقیقت اس کے برعکس ہے ، علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا زکر تک نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے خطبہ میں یہ فارمولا پیش کیا تھا کہ ہندوستان کے شمال مغربی علاقوں کو ہندوستان کے جغرافیہ میں رہتے ہوئے آزاد اور خود مختار ریاستوں کا درجہ دیدیا جائے ۔علامہ اقبال تقسیم ہند کے نہیں بلکہ خود مختاری کے حامی تھے، تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب علامہ اقبال کے ایک شاگرد جن کا نام راغب تھا،انہوں نے جرمنی یہ کتاب لکھی کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا مطالبہ کردیا تو علامہ اقبال نے ناراض ہو کر اپنے اس شاگرد کو خط لکھا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں خطبہ الہ آباد کے بارے میں غلط بات کیوں لکھی، انہوں نے پاکستان کا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے پاکستان کا کوئی مطالبہ یا تصور پیش نہیں کیا تھا، ان کا انتقال 1939ء میں ہی ہوگیا تھا اور 1939ء میں پاکستان کے نام سے کوئی تحریک نہیں چل رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کا نام چوہدری رحمت علی نے پیش کیا تھا جبکہ اس کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ قیام پاکستان کے فوری بعد 1948ء میں فوج نے قبائلی علاقوں کے لوگوں سے کشمیر پر حملہ کرایا، جب بھارت کی فوج آگے آئی تو پاکستان کی فورسز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کو یوم دفاع منایا جاتا ہے اور قوم کو بتایا جاتا ہے کہ 6 ستمبر1965ء کو بھارت نے حملہ کیا تھا تو فوج نے دفاع کیا تھا جبکہ اصل تاریخی حقیقت کچھ اور ہے، ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغرخان نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی ساری حقیقت کھول کر رکھ دی اور بتایا کہ کشمیر کے محاذ پر پاکستان نے جنگ شروع کی تھی اور یہ سمجھا تھا کہ انڈیا انٹرنیشنل بارڈر نہیں کھولے گا لیکن جب انڈیانے انٹرنیشنل بارڈر کھول کر جوابی حملہ کیا تو اس وقت کے حکمرانوں نے امریکہ سے درخواست کر کے یہ جنگ بند کروائی ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ چاہے 48ء کی جنگ ہو یا 65ء کی جنگ ہو،1971ء کی جنگ ہو یا اس کے بعد کارگل کی جنگ ہو، ہر جنگ میں پاکستان کی فوج کو شکست اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن عوام کو فوج کی بہادری کے کارنامے سنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب فوج نے کوئی جنگ نہیں جیتی تو پھر فوج کے جرنیلوں اور اعلیٰ افسران کس بات پر اپنے سینوں پر بڑے بڑے تمغے سجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دراصل یہ تمغے تاریخ کو مسخ کرنے، ملک میں باربارمارشل لاء لگانے ، ایم کیوایم کو کچلنے ، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنے اور اپنے ہی ملک کو فتح کرنے کے تمغے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے ہمیشہ اپنے ہی ملک کے شہریوں سے جنگ کی ہے اور اپنے ہی شہروں کو فتح کیا ہے ، فوج نے پختونوں، بلوچوں اور سندھیوں کو فتح کیا، اب مہاجروں کو فتح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، لوگوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کیا جارہا ہے، سرکاری عقوبت خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ماورائے عدالت قتل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو بتایا گیا کہ ملک میں ضرب عضب دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس کی آڑ میں معصوم قبائلیوں کو مارا گیا ، آج ردالفساد کے نام سے آپریشن ہو رہا ہے تو قبائلی علاقوں کے بے گناہ لوگوں کول اپتہ اور بے گھر کیا جارہا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جو دفاعی تجزیہ نگار بھی ٹی وی پر بیٹھ کربڑی بڑی باتیں کرتے ہیں انہوں نے بھی کوئی جنگ نہیں لڑی ، حقیقت تویہ ہے کہ جنگیں صرف سپاہی ، صوبیدار اور نچلے افسران لڑتے ہیں جبکہ بڑے بڑے افسران اپنے ایئرکنڈیشنڈ بنگلوں اور بڑے بڑے کیمپوں میں آرام سے بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اینکرز کی اکثریت بھی صرف وہی بیانیہ پیش کرتی ہے جو فوج کا دیا ہوا ہوتا ہے، جو اینکرز، صحافی اور تجزیہ نگار اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں اور ااقدامات پر تنقید کرتے ہیں انہیں اٹھالیا جاتا ہے اورسرکاری عقوبت خانوں میں آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر رکھا جاتا ہے اور کئی کئی روز تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسی وقت چھوڑا جاتا ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کا پڑھایا ہوا سبق بیان کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اتنا مقدس قرار دیدیا گیا ہے کہ اس کے خلاف ایک لفظ بولنا اور اس کے ظلم کو ظلم کہنا سب سے بڑا جرم بنا دیا گیا ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ فوج ملک کی نوکر ہوتی ہے ، پاکستان کی فوج بھی ملک کے 22 کروڑ عوام ماتحت ہیں، ملک کے عوام فوج سے سوال کرسکتے ہیں ۔ پوری دنیا میں فوج ماتحت ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں فوج اصل حاکم بنی ہوئی ہے اور ملک کے تمام ادارے اس کے ماتحت بنے ہوئے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے ، انڈیا نے آزاد ہوتے ہی جاگیردارانہ نظام ختم کردیا اور فوج کو کبھی بھی سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنے دی، 70سال میں وہاں ایک دن کے لئے بھی مارشل لا نہیں لگا جس کی وجہ سے انڈیا میں جمہوریت مستحکم ہوتی رہی اور ملک نے ترقی کی لیکن پاکستان میں گزشتہ 70سال کے عرصہ میں 35سال تو بلاواسطہ مارشل لاء نافذ رہا اور باقی عرصے بلواسطہ فوج کی حکمرانی رہی ہے ، اب فوج کو مارشل لاء نافذ کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے کیونکہ آج حکومت، انتظامیہ، پارلیمنٹ، عدلیہ ، میڈیا اور سارے ادارے فوج کے کنٹرول میں ہیں ، فوج سرحدوں کی حفاظت چھوڑ کر تجارت اور کاروبار کررہی ہے۔ سیمنٹ ،ریتی بجری، بینکس، شادی ہال ، واٹر ہائیڈرینٹ، پیٹرول پمپس، بلڈنگ میٹریلز،کولڈرنکس، گوشت، کونسا کاروبار ہے جو فوج نہ کررہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اگر ملک سے واقعی مخلص ہو تی تو الطاف حسین کی باتوں کا برا منانے کے بجائے الطاف حسین کی باتوں پر توجہ دیتی، الطاف حسین کی صلاحیتوں کو ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے استعمال کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی پاکستان کی بقا، سلامتی اورترقی و خوشحالی کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیارہوں لیکن شرط یہ ہے کہ فوج ، آئی ایس آئی ملک کوجوابدہ ہوگی ، اگرمیں پانچ سال میں ملک کا نقشہ نہ بدل دوں تو سیاست چھوڑدوں گا۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار آج اسپتالوں اور جگہ جگہ کے دوے کررہے ہیں لیکن انہیں جیلوں کے دورے بھی کرنے چاہئیں جہاں لوگ جھوٹے مقدمات میں برسوں سے جیلوں میں قید ہیں، چیف جسٹس کو پختونخوا، قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی کا دورہ کرنا چاہیے جہاں ہزاروں نوجوان برسوں، مہینوں سے لاپتہ ہیں اور ان کے اہل خانہ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے اقامہ کے معاملے پر نواز شریف کو تو نااہل قرار دیدیا لیکن انہیں آصف زرداری، عمران خان اور دیگر لوگوں کو بھی بلا کر پوچھنا چاہیے کہ ان کے پاس اربوں کھربوں کی جائیدادیں اور محل کہاں سے آئے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کی عدلیہ بھی فوج کی غلام اور اس کی ترجمان بنی ہوئی ہے جو غریب و مظلوم عوام کو انصاف دینے کے بجائے ظالموں کا تحفظ کررہی ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو لیڈر بنانے اور اس کو اقتدار دلانے کے لئے اب تک کھربوں روپے خرچ کئے ہیں جبکہ اس کے کردار کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ ایک ناجائز بچی کا باپ ہے اور اس کے بارے میں لاس اینجلس کورٹ کا فیصلہ موجود ہے لیکن سپریم کورٹ نے اسے صادق اور امین قرار دیدیا ہے ۔
جناب الطاف حسین نے دریافت کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی ایک بھی لیڈر کا نام بتائیں جو الطاف حسین کی طرح غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتا ہو اور جس نے اسکول ،کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم ٹیوشن پڑھا کر حاصل کی ہو اور وہ ایسی جماعت کا بانی و قائد بن گیا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب و متوسط طبقہ کی حکمرانی کی بنیاد ڈالی اور موروثی سیاست پر کاری ضرب لگائی ہو؟ انہوں نے مزید کہا کہ حق پرستی کی جدوجہد کے دوران الطاف حسین نے اپنے بھائی اور بھتیجے کی قربانی ضرور دی ہے لیکن اپنے کسی بھائی یا بھتیجے کو سینیٹ ، قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی کارکن یا میئر، ڈپٹی میئر نہیں بنایا۔ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں میں کوئی ایک نام بتادیں جو الطاف حسین جیسا ہو، پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے الطاف حسین کو متعدد بار پرکشش مراعات کی پیشکش کی، بہت لالچ دیئے، نوٹوں سے بھرے صندوق بھیجے لیکن میں نے آئی ایس آئی کی بھیجی ہوئی رقم لینے سے انکار کردیا۔ آئی بی کے سابق سربراہ بریگیڈیئر(ر) امتیاز احمد آج بھی زندہ ہیں ، اللہ انہیں سلامت رکھے ، وہ ٹیلی ویژن پر اس حقیقت کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہم  رقم لیکر الطاف حسین کے پاس گئے تھے لیکن انہوں نے رقم لینے سے صاف انکار کردیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جو لوگ میرے پاس رقم لیکر آئے انہیں میں نے صاف کہہ دیا تھا کہ میں فوج کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہوں لیکن اس معاملہ میں پلاٹ ، پرمٹ اور پیسہ درمیان میں نہ لایا جائے کیونکہ الطاف حسین بے لوث ہوکر ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی خدمت اور غریب و متوسط طبقہ کی حکمرانی کیلئے ہم نے مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیا، ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے تمام قومیتوں کے افراد کو منتخب کرایا اور ایوانوں میں نمائندگی دلوائی، یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے اپنے گھر یعنی نائن زیرو سے غریب سندھیوں کو الیکشن میں کامیاب بنایا مگر سندھی وڈیروں اور نام نہاد قوم پرستوں نے ہمارے خلوص کی کبھی قدر نہیں کی کیونکہ سندھی جاگیردار، وڈیرے اور نام نہاد قوم پرست نہیں چاہتے کہ غریب سندھیوں اور مہاجروں میں اتحاد قائم ہو۔ اسی طرح پنجاب کے جاگیرداروں اور زمینداروں نے غریب پنجابیوں کو اپنا غلام بنا رکھا ہے ،ان کے ہاتھوں کسی غریب ہاری، کسان یا مزارعہ کی بہو بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے ، جو بھی زمینداروں کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اس کے پورے خاندان کا برہنہ جلوس نکالا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے خود کبھی الیکشن نہیں لڑا بلکہ غریب کارکنوں کو ایوانوں میں بھیجا جوکہ انتخابی بینر بنانے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تھے ،ان امیدواروں کی نامزدگی کی فیس بھی ایم کیوایم ادا کرتی تھی تاکہ کروڑوں روپے خرچ کرکے انتخابات میں حصہ لینے کی روایت ختم کی جاسکے لیکن یہ نظام فوج اور آئی ایس آئی کو پسند نہیں آیا اور انہوں نے ایم کیوایم کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ 1990ء کو جب میں نے مینار پاکستان لاہور میں جلسہ عام سے خطاب میں پنجاب کے غریب عوام کو پیغام دیا کہ وہ جاگیرداروں ، وڈیروں ، زمینداروں اورسرمایہ داروں کو منتخب کرنے کے بجائے اپنی صفوں سے قیادت نکالیں تو کرپٹ جرنیل ، جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دارمیرے دشمن بن گئے اور انہوں نے میرے خلاف منفی پروپیگنڈے شروع کردیئے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب تک غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور ایماندار افراد منتخب ہوکر ایوانوں میں نہیں جائیں گے اس وقت تک پاکستان کا نظام کبھی تبدیل نہیں ہوگا، شاعر مشرق علامہ اقبال کے چاہنے والے بالخصوص نوجوان طلبا و طالبات کو چاہیے کہ وہ میدان عمل میں آئیں اور پنجاب کے جاگیرداروں ، زمینداروں اور نوابوں کے ظلم سے نجات کیلئے انتخابات میں انکے مقابل کھڑے ہوں۔ جس طرح ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی نے تمام electables جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو فون کر کے تحریک انصاف میں شامل کرایا اسی طرح یہی لوگ پورے سندھ میں مہاجروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ فلاں کی پارٹی میں شامل ہوجاؤ یا فلاں کو ووٹ دو ورنہ پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف یا آفتاب احمد کی طرح شہید یا لاپتہ ہونے کیلئے تیارہوجاؤ۔
جناب الطاف حسین نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کیلئے ساڑھے تین لاکھ فوج کیا کشمیر فتح کرنے کیلئے مانگی ہے ؟ انتخابات کرانا فوج کا کام نہیں ہوتا، مجھے برطانیہ میں رہتے ہوئے26 سال ہوگئے ہیں میں نے آج تک یہاں پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی پولیس اہلکار تعینات ہوتے نہیں دیکھا۔ کیا پاکستان میں انتخابات کرانے کیلئے پولنگ اسٹیشنوں پر اندر اور باہر اس لئے فوج تعینات کرائی جارہی ہے کہ اپنی مرضی سے ٹھپہ لگائے جاسکیں اور من پسند افراد کو الیکشن میں کامیاب بنایا جاسکے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان کی فوج فلسطین اور یمن میں مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہے، افغانستان میں پاکستانی طالبان استعمال کیے جارہے ہیں اور وہاں گڈ طالبان کے ذریعہ حملے کروائے جارہے ہیں، اس کے پیچھے آئی ایس آئی ہے جو پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلارہی ہے ،اقوام متحدہ ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو آئی ایس آئی کو لگام دینی چاہیے ۔
جناب الطاف حسین نے الیکشن 2018ء کے بائیکاٹ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے طے رکھا ہے کہ شہری سندھ میں الطاف حسین کی جماعت اور اس کے ووٹرز کو انتخابات کیلئے سازگار ماحول فراہم نہ کیا جائے ، سازگار ماحول کے بغیر انتخابات شفاف اور غیرجانبدار کیسے ہوسکتے ہیں؟ الیکشن میں دھاندلی کیلئے پہلے الیکشن کی مانیٹرنگ کیلئے پاکستان آنے والے عالمی مبصرین پر پابندی لگائی گئی اورجب امریکہ نے زور دیا تو ’’یس سر‘‘ کہہ دیا گیا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کو پارلیمانی سیاست سے باہر نہیں ہونا چاہیے وہ جواب دیں کہ کیا 1992ء میں پاکستان کے تمام منتخب ایوانوں میں ایم کیوایم کی نمائندگی نہیں تھی؟ اس کے باوجود ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا اور ایم کیوایم کے منتخب نمائندے اس آپریشن کو رکوانے کیلئے کچھ نہ کرسکے بلکہ ان کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں۔ جب جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیا گیا ، ایم کیوایم کے نمائندے منتخب ایوانوں کے رکن تھے لیکن جب پاکستان کے وزیراعظم کے سرپرپستول رکھ کر استعفے پر دستخط کرائے جاسکتے ہیں تو ایم کیوایم کے نمائندوں کی کیا حیثیت ہے۔ ایسے الیکشن کا کیا فائدہ کہ کارکنان رات دن انتخابی مہم چلائیں ، عوام اپنے امیدواروں کو ووٹ دیکر کامیاب بنائیں اور کامیاب ہونے والے راتوں رات فوج کے اشارے پر لوٹے بن جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر انتخابات کے بائیکاٹ کی مخالفت کررہے ہیں وہ مہاجروں کو بہکارہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ حالیہ مردم شماری میں مہاجروں کی ساڑھے تین کروڑ آبادی کم کرکے صرف ڈیڑھ کروڑ ظاہرکی گئی ہے ، آبادی کے تناسب سے قومی و صوبائی اسمبلی میں سندھ کے شہری کو نمائندگی کے حق سے محروم کردیا گیا،حلقہ بندی میں مہاجر اکثریتی علاقے دیگر علاقوں میں شامل کیے گئے ہیں ۔ان حالات میں الیکشن میں حصہ لیکر کیا کریں گے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو، خورشید بیگم سیکریٹریٹ، ایم پی اے ہاسٹل پر تالا پڑا ہوا ہے، ایم کیوایم کی میڈیا کوریج پر پابندی ہے ، میری تحریر و تقریر پر پابندی ہے ، ایم کیوایم کو سیاسی سرگرمیوں کی آزادی نہیں دی جارہی، جلسہ جلوس اور احتجاجی مظاہرے  تو درکنار مہاجروں کو یوم شہداء منانے اور قرآن خوانی تک کرنے کی اجازت نہیں ہے ، یادگار شہداء جانے والی خواتین تک کو تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے ،رینجرز اہلکار ان پر بندوقیں تان کربہادری دکھاتے ہیں۔ ان حالات میں شہری سندھ کے عوام آزادی کے ساتھ کس طرح اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہاجر بزرگوں اور خواتین پر تشدد کرنے والے اگر بہادرہیں تو اپنے عوام کو فتح کرنے اور ان پر بندوقیں تاننے کے بجائے کشمیرکو آزاد کرائیں، آخر وہ کب تک مظلوم کشمیریوں کے نام پر پیسہ کھاتے رہیں گے ۔یہ اتنے بہادر ہیں کہ ٹیلی ویژن پر الطاف حسین کا نام آنے سے ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے الطاف حسین کا نام سن لیا تو رات کو ان کو نیند نہیں آئے گی لہٰذا الطاف حسین اور ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کا مؤقف میڈیا پر نہیں آنا چاہیے۔ عوام پانی ، بجلی ، گیس اور صحت و صفائی کی سہولیات کو ترس رہے ہیں ، عوامی ایشوز پر آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ رینجرز ٹینکر مافیا بنی ہوئی ہے ان کے خلاف کوئی نہیں بولتا، ؟ انہوں نے کہا کہ ٹی وی ٹاک شوز میں الزام لگایا جاتا ہے کہ کراچی آپریشن میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کو ماردیا گیا، انہیں جس نے بھی مارا غلط عمل کیا لیکن ان ضمیرفروش اینکرپرسنز اور تجزیہ نگاروں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ہزاروں مہاجر نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے والے پولیس افسران کو آج تک آئین اور قانون کے مطابق سزا کیوں نہیں دی گئی؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ 22 اگست 2016ء کو کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں مجھ سے پہلے عامرخان نے پاکستان کے خلاف بات کی اور وہاں موجود فاروق ستارسمیت تمام افراد نے تالیاں بجائیں تھیں لیکن میرے گھرپرتالا ڈال گیا، پاکستان کے خلاف بات کرنے اور تالیاں بجانے والے سب ڈرائی کلین ہوگئے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نے دکھ اور صدمہ میں نعرہ لگایا تھا تو دومرتبہ تحریری معافی بھی مانگی، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمرجاوید باجوہ کے نام خطوط بھی لکھے لیکن الطاف حسین کو معاف نہیں کیا گیا کیونکہ الطاف حسین کو معاف کرنے کا مطلب غریب و متوسط طبقہ کے عوام کو معاف کرنا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ اگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھ رہی ہے کہ الطاف حسین کے چاہنے والے ختم ہوگئے تو یہ ان کی بھول ہے ،حالات کے تمام ترجبرکے باوجود الطاف حسین آج بھی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں ، بزرگوں، نوجوانوں اور معصوم بچوں کے دلوں میں بستا ہے ۔ اس موقع پر ایک معصوم بچی نے جناب الطاف حسین سے اپنی والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار بھی کیا۔
جناب الطاف حسین نے شہیدوں کے لہو سے بے وفائی کرنے والے ضمیرفروشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدرت کا مکافات عمل ہے کہ جس نے ایم کیوایم کا آئین تبدیل کرکے مجھ سے رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کا حق چھینا اسے ہی رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں شہید ساتھیوں کے گھروں پر ماتم ہے، لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ شدید ذہنی کرب و اذیت کا شکار ہیں، شہیدوں اور لاپتہ ساتھیوں کے بچوں کے پاس کھانے اور اسکول کی فیس دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں، ان حالات میں مہاجرقوم کے غدار الیکشن میں کس طرح حصہ لینے کی باتیں کر رہے ہیں؟ اگر غیرت ہوتی تو ایسے الیکشن میں حصہ لینے کے بجائے مرجانا قبول کرتے ۔پہلے خدمت خلق فاؤنڈیشن کے تحت شہیدوں کے اہل خانہ اور دیگرمستحقین کی بھرپور مدد کی جاتی تھی لیکن غداروں نے یہ سلسلہ بھی بند کردیا ہے، ان ضمیرفروشوں نے تحریک کے پیسے اور تمام اثاثوں پر قبضہ کر رکھا ہے ، مالی مشکلات کے باعث میں دنیا بھرمیں مقیم تحریکی ساتھیوں سے مالی مدد کی اپیلیں کر رہا ہوں، ماضی کی طرح آج بھی شہید، اسیر اور لاپتہ ساتھیوں کی اپنی بساط سے بڑھ کر مالی مدد کر رہا ہوں، اگر مہاجر قوم کے حقوق کیلئے مجھے بھیک بھی مانگنی پڑی تو میں مانگوں گا مگر اپنا تحریکی مشن جاری رکھوں گا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ جب تک پاکستان کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام اپنی صفوں سے قیادت نہیں نکالیں گے پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود یقینی بنائی نہیں جاسکتی۔ مجھے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غدار اور ملک دشمن کہا گیا لیکن اس کے باوجود میں آج بھی پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بات کررہا ہوں کیونکہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں میرے اجداد کا لہو شامل ہے اور میرے دل میں پاکستان کا درد موجود ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہم نے آئندہ الیکشن کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور ان شااللہ سندھ کے شہری عوام الیکشن کا ایسا بائیکاٹ کریں گے کہ دنیا دیکھے گی ، مجھے اپنی ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور ساتھیوں سے امید ہے کہ وہ الیکشن کے دن اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے اور پولنگ اسٹیشنوں پر قبرستان کا سناٹا ہوگا۔ اس موقع پر جناب الطاف حسین نے بائیکاٹ ، بائیکاٹ۔۔۔الیکشن کا بائیکاٹ ‘‘ کے نعرے بھی لگائے۔ جناب الطاف حسین نے صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان ، سندھ اور قبائلی علاقوں کے عوام سمیت کشمیری، سرائیکی، ہزاروال ،گلگتی اور بلتستانی عوام سے بھی اپیل کی وہ جاگیرداروں اوروڈیروں کو ہرگز ووٹ نہ دیں، یہ عوامی نہیں بلکہ فوجی الیکشن ہیں، اس الیکشن میں فوج اپنی مرضی سے لوگوں کو کامیاب کروائے گی لہٰذا ایسے فوجی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ جناب الطاف حسین نے غریب مہاجروں، پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، قبائلیوں، کشمیریوں ، سرائیکیوں، ہزاروال اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے عوام بالخصوص Millennial اور نوجوان طلبا و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے بلکہ انہیں اپنے جائز حقوق کیلئے خود میدان عمل میں آنا ہوگا اور پاکستان کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کو فرسودہ جاگیردارانہ نظام ، جاگیرداروں اوروڈیروں کی موروثی سیاست اورظلم وجبرکے نظام سے آزادی دلانی ہوگی۔