فیصل رضا عابدی کی ہتھکڑیوں کے ساتھ مسکراتی ہوئی تصویر اس کی جرات و بہادری کی علامت ہے۔ الطا ف حسین

ایم کیوایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوان سیاسی رہنما اور سابق سینیٹر سید فیصل رضا عابدی کو فی الفور رہا کیا جائے ۔ انہوں نے یہ مطالبہ ہفتہ کو اپنے خطاب میں کیا۔ ان کا یہ خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھر میں نشر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دوہرا قانون ہے،ایک طرف مولانا خادم حسین رضوی ہیں جنہوں نے فیض آباد میں دھرنے کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کا نام لے لے کر گالیاں دیں ، لیکن اس کے باوجود خادم رضوی کے خلاف کوئی توہین عدالت کا کیس نہیں بنا ،ان کوکوئی ہتھکڑی نہیں لگائی گئی بلکہ ان کے لوگوں میں ڈی جی رینجرز پنجاب نے پیسے تقسیم کئے جبکہ دوسری جانب ایک نوجوان سیاسی رہنما، ایک مقرر،سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی ہے جو ملک کے فرسودہ نظام، کرپشن، حلقہ بندیوں ، مردم شماری میں مہاجروں کی آبادی کو کم کرنے اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے ،کراچی میں پانی ، بجلی ،گیس کیلئے آواز اٹھا رہے تھے اور جراتمندی سے اپنا مؤقف پیش کر رہے تھے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے انصاف مانگ رہے تھے لیکن نہ ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ان کی بات سنی ، نہ ڈی جی رینجرز نے ، بلکہ ان کی بات سننے اور انہیں انصاف دینے کے بجائے ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ قائم کردیا گیا ،انہیں گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگا ئی گئیں۔ فیصل رضا عابدی کو اڈیالہ جیل میں جرائم پیشہ لوگوں کے سیل میں رکھا گیا ہے اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات تک کرنے نہیں دی جارہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرچیف جسٹس پر تنقید کرنا توہین عدالت ہے تو جو ہتھکڑی فیصل رضا عابدی کو لگی وہ مولانا خادم حسین رضوی کو کیوں نہیں لگی؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے فیصل رضا عابدی کی گرفتاری اور ہتھکڑیاں لگانے کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ کوئٹہ،گلگت بلتستان میں ہزارہ شیعہ کا قتل عام کیا جاتا ہے ،کئی شیعہ ڈاکٹرز، انجینئرز اور علماء کا قتل کیا گیا لیکن کسی کا قاتل نہیں پکڑا گیا، چیف جسٹس کہتے ہیں کہ وہ آئین کے محافظ اور امین ہیں اور ان کا کام انصاف کرنا ہے لیکن انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ہتھکڑی لگنے پر نوٹس لے لیا اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے ،ہم ان آنسوؤں کا احترام کرتے ہیں لیکن چیف جسٹس کو ڈاکٹرحسن ظفر عارف کی ہتھکڑی اور ان کا ماورائے عدالت قتل نظر نہیں آیا، انہیں فیصل رضا عابدی کی ہتھکڑی نظر نہیں آئی،انہیں نائن زیرو کا تالہ نظرنہیں آیا۔ جناب الطا ف حسین نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے مطالبہ کیا کہ سید فیصل رضا عابدی کو فی الفور رہا کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ فیصل رضا عابدی کی ہتھکڑیوں کے ساتھ مسکراتی ہوئی تصویر اس کی جرات و بہادری کی علامت ہے ۔انہوں نے اس موقع پر ’’ نعرہ حیدری‘‘ بھی لگایا۔ جناب الطا ف حسین نے کہا کہ جو حسین کو نہ مانے وہ محمدؐ کو نہیں مانتا اور جو محمدؐ کو نہیں مانتا وہ اللہ کو نہیں مانتا۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں حسینی ہوں، میں نے ہمیشہ شیعہ سنی بھائی چارے اور یکجہتی کی بات کی ، امام بارگاہوں کی حفاظت کی ۔انہوں نے تمام مہاجر شیعوں سے کہا کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ صرف مہاجر شیعوں کا ہی قتل ہوتا، انہوں نے شیعہ سنی ۔۔۔بھائی بھائی کا بھی نعرہ لگایا۔